اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

دو بڑے اسلامی ممالک میں فوجی معاہدے امریکا بھی کھل کر سامنے آگیا ، بڑا اعلان کر دیا ‎

datetime 4  مارچ‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)خلیجی ریاست قطر اور ترکی کے درمیان طے پایا دفاعی تعاون کا معاہدہ عالمی سطح پر مسلسل متنازع ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس پر سوالات اٹھانا شروع کردئیے۔امریکا کی ایک نیوز ویب سائیٹ کی جانب سے شائع کی گئی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا کہ قطر اور دوحہ کے درمیان طے پائے سمجھوتے نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو قطر کی سرزمین پر

قبضے کا مطلق اختیار دے دیاہے۔قطر میں ترکی کی فوجی سرگرمیوں میں اضافیکو امریکا بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ خطے کے ممالک اور عالمی طاقتیں بھی قطر کو ترکی کی فوجی چھاؤنی بنانے پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے لیے منتظر ہیں۔ عن قریب امریکی وزارت خارجہ اور سلامتی کونسل بھی اس حوالے سے اپنا موقف واضح کرے گی کہ آیا ترکی ایک ایسے ملک میں اپنی فوجی سرگرمیاں کیسے بڑھا سکتا ہے جہاں امریکا کا مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا فوجی فوجی اڈا موجود ہے۔قطر اور ترکی کے درمیان طے پائے سمجھوتے کو ‘جمہوریہ ترکی اور قطری مملکت کی اراضی میں ترک فوج کی تعیناتی’ کا عنوان دیا گیا۔ اس سمجھوتے پر 28 اپریل 2016ء کو دستخط ہوئے اور 101 سال کے بعد پہلاموقع ہے جب ترکی کی اتنی بڑی فوج خلیج کے کسی ملک میں جمع ہوئی ہے۔دوحہ اور انقرہ کے درمیان طے پائے معاہدے میں ترک صدر رجب طیب یردوآن کو قطر کی سرزمین کو استعمال کرنے کی مطلق آزادی فراہم کی گئی ہے۔ ترکی اس معاہد ے کو اپنے نظریاتی اورسیاسی مفادات کے لیے استعمال کرے گا۔ وہ ‘نیٹو’ کی طرز پر ایک بڑی فوجی طاقت تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہے جس میں عالمی اتحاد میں شامل دْنیا کی دوسری بڑی فوج کو شامل کیا جائے گا۔ فوجی طاقت کے اعتبار سے امریکا اس وقت پہلے نمبر پر ہے۔قطرخْود کو ترکی کے لیے تزویراتی اہمیت کاحامل ملک قرار دیتا ہے۔ سویڈن میں قائم مانیٹرنگ

نورڈیک رصد گاہ کے مطابق ترکی اور قطر کے درمیان فوجی معاہدیکو خلیج میں کسی فوجی کارروائی کے دوران بدنام کیا جاسکتا ہے۔ترکی کے قطرمیں قائم کردہ فوجی اڈے کو خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگار عبداللہ بوزکوٹ نے امریکی ویب سائیٹ کے لیے ایک مضموں میں لکھا کہ جب ترکی اور قطر کے

درمیان فوجی معاہدہ مکمل نافذ ہوگا تو اس کے خلیجی خطے کوخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ترک فوج خلیجی خطے میں اپنے مخصوص مفادات کے لیے کسی فوجی مہم جوئی میں شامل ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس معاہدے کے بہت سے پہلو پردہ راز میں ہیں۔ یہ معاہدہ ایردوآن کو قطر کی سرزمین کو کسی بھی مہم جوئی کے لیے استعمال کرنے کا مطلق اختیار دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…