ہفتہ‬‮ ، 02 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملک میں امتیازی قانون رائج ہے،حکمرانوں کا انجام ضیا ء اور مشرف جیسا ہو گا،اسفندیار ولی خان نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 13  فروری‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان سعودی عرب کے دورے کے بعد گزشتہ رات دوبئی پہنچ گئے جہاں پارٹی رہنماؤں کی جانب سے ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا، مرکزی صدر15فروری کو دوبئی میں باچا خان اور ولی خان کی برسی تقریب سے خطاب کریں گے، دوبئی پہنچنے کے بعد اسفندیار ولی خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم دورے کا مقصد باچا خان اورولی خان کی برسی تقاریب سمیت اے این پی سعودی عرب کے سابق مرکزی صدر گل زمین سید کی یاد میں منعقدہ ریفرنس میں شرکت کرنا تھا

جبکہ عرب امارات کے ساتھیوں کی جانب سے دورے کی دعوت بھی دی گئی تھی، ملکی صورتحال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک سنگین سیاسی بحران کی زد میں ہے اور موجودہ نا اہل حکمرانوں کی نا تجربہ کاری سے ملکی معیشت آخری ہچکیاں لے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی روپے کی گراوٹ کا ریکارڈ قائم ہوا ہے جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑا ، ایک سوال کے جواب میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مسلط وزیر اعظم کا حشر بھی ضیا الحق اور مشرف جیسا ہو گااور کپتان کی سیاست اپنی موت آپ مر جائے گی ، عوام کو گمراہ کرنے کیلئے مرغیوں اور انڈوں کا فارمولہ دیا گیا جبکہ عمران کی اپنی باجی نے سلائی مشینوں کے ذریعے دبئی اور امریکہ میں اربوں کی جائیدادیں خرید لیں، انہوں نے کہا کہ درحقیقت ملک میں جو تبدیلی آئی ہے اس میں متوسط طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے جا گرا ہے ،خود غیر قانونی گھر میں رہنے والا مسلط وزیر اعظم خیبر سے کراچی تک لوگوں کو تجاوزات کے نام پر بے گھر کر رہا ہے، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں یکساں قانون نہیں ہے ، اپنے چوروں کو صرف جرمانے کر کے تحفظ دیا جا رہا ہے جبکہ سیاسی مخالفین کو کوئی کیس نہ ہونے کے باوجود جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے،اسفندیار ولی خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خود کشی کے دعوے کرنے والا شخص بالآخر آئی ایم ایف کے گھٹنوں میں جا بیٹھا جس سے ملک کا تشخص پامال ہوا ،

ملک میں جاری پختونوں کے قتل عام بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص تحریک اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات سلجھانے کی خاطر مذاکرات بہترین آپشن ہیں کوئی مسئلہ بات چیت کے بغیر حل نہیں ہو سکتا اور جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ، انہوں نے کہا کہ فوج کے جوانوں نے بھی امن کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں جن سے انکار کسی صورت ممکن نہیں، اسفندیار ولی خان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے جاری کوششوں کو خوش آئند قرار دیا تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ امن مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل کیا جائے کسی بھی ایک فریق کی غیر موجودگی سے مذاکرات کا مستقبل تابناک نہیں ہو سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…