اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

10 ہزار پاکستانیوں کا امدادکیلئے بطور افغان مہاجر اندراج کروانے کا انکشاف جانتے ہیں جعلی شناخت کے یہ کیسز نادرا سسٹم نے کیسے پکڑے؟

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ایسے 10ہزار پاکستانیوں کا سراغ لگایا جنہوں نے امداد حاصل کرنے کے لیے اپنا اندراج افغان مہاجر کی حیثیت سے کروا رکھا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ہائی کمیشن برائے مہاجرین نے رضاکارانہ واپسی کی اسکیم کے تحت اپنے آبائی وطن واپس جانے والے ہر افغان مہاجر کے لیے 400 ڈالر کی رقم مختص کررکھی ہے جو تقریباً 55 ہزار پاکستانی روپے کے لگ بھگ ہے۔

یہ انکشاف چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بلاک کیے جانے والے قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سی) کے معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے کیا، اجلاس کی صدرت کمیٹی چیئرمین سینیٹر رحمن ملک نے کی۔ چیئرمین نادرا نے بتایا کہ جعلی شناخت کے یہ کیسز نادرا کے سسٹم نے اس وقت پکڑے جب کارڈز بلاک کیے جانے پر لوگوں نے نادرا سے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے رابطہ کیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ 5 اقسام کے شناختی کارڈ مشتبہ ہونے پر بلاک کیے گئے ہیں۔چیئرمین نادرا نے مزید بتایا کہ رضاکارانہ واپسی اسکیم کے تحت تقریباً 10 لاکھ افغان مہاجرین افغانستان واپس جاچکے ہیں اور ہر جانے والے فرد حتیٰ کہ نومولود کو بھی اقوامِ متحدہ کا ہائی کمیشن 400 ڈالر کی رقم دیتا ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں رہنے والے پختونوں کو نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ جاری کرنے سے انکار پر یہ معاملہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر یعقوب خان نے سینیٹ میں اٹھایا تھا۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نادرا کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ایک زمانے میں 24 لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ تھے‘ جن کے علاوہ مزید 15 لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان بھی ملک میں رہائش پذیر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستانی خاندانوں سے تعلق ظاہر کر کے سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے قومی شناختی کارڈ حاصل کرلیے تھے۔حالانکہ جن پاکستانی خاندانوں کا استعمال کیا گیا وہ خود بھی مشتبہ تھے تا ہم کچھ حقیقی پاکستانی خاندانوں نے بذاتِ خود انہیں اپنا حصہ ظاہر کر کے شناختی کارڈ کے حصول میں معاونت کی۔

عثمان مبین کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے ایسے پاکستانی جن کی شناخت مشتبہ تھی، کی تصدیق کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا تھا جس کے تحت کی گئی قومی تصدیقی مہم کے دوران نادرا میں ایک لاکھ 65 ہزار مشتبہ کیسز سامنے آئے۔مذکورہ پارلیمانی کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں حکومت نے حکم جاری کیا تھا کہ ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر اس قسم کے کیسز کی تصدیق کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی سربراہی کرے گا۔

پارلیمانی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہر مشتبہ درخواست گزار کو تصدیق کے لیے 7 شناختی دستاویزات میں سے کم از کم ایک دستاویز متعلقہ ضلعی کمیٹی کے سامنے پیش کرنی ہوگی۔اس موقع پر کمیٹی چیئرمین نے بتایا کہ حتیٰ کہ ایران سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم کا سابق سربراہ عبد المالک رگی بھی خود کو پاکستانی خاندان کا حصہ ثابت کر کے شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

سینیٹ کمیٹی میں سیکیورٹی نہ ہونے کے سبب ایران اور عراق سے لوٹنے والے سینکڑوں زائرین کے پاک ایران سرحد تفتان پر پھنسے ہونے کا معاملہ بھی موضوعِ بحث بنا۔جس پر سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ ایف سی بلوچستان (ساؤتھ ریجن) کے آئی جی میجر جنرل سعید احمد ناگرا اور ڈائریکٹر ایف آئی اے نے انہیں پھنسے ہوئے زائرین کے محفوظ سفر کی یقین دہانی کروائی ہے۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ زائرین کی فوری طور پر محفوظ واپسی کے انتظامات کیے جائیں اور اس حوالے سے ایک مفصل رپورٹ بھی پیش کی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…