اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

تاریخ میں غلاف کعبہ تیار کرنے والی تین خواتین بھی شامل تھیں،عرب ٹی وی

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

مکہ مکرمہ(این این آئی)بیت اللہ کے غلاف کی تیاری کو نہ صرف ظہور اسلام کے بعد بلکہ دور جاہلیت میں بہت بڑے اعزاز کا کام سمجھا جاتا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں بھی غلاف کعبہ کی تیاری میں مقابلے کی کیفیت پائی جاتی۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھرپور مشقت کے باوجود ہر ایک اپنی استطاعت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں اپنا حصہ ڈالتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ

قریش خانہ کعبہ کیلئے وہی غلاف قبول کرتے تھے جسے وہ اس عظیم المرتبت مقام کیلئے مناسب خیال کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ کے غلاف کیلئے اچھا خاصا کپڑا درکار ہوتا، جس کی لمبائی اونچائی 15 میٹر اور اضلاع کی لمبائی 12 میٹر ہوتی۔بہت سے لوگ غلافہ کعبہ تیار کرتے، جس کا تیار کردہ غلاف زیادہ خوبصورت، مضبوط اور مکمل ہوتا اس کا غلاف خرید لیا جاتا۔ قریش میں ہر ایک غلاف کعبہ کی خریداری کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا تھا۔ زیادہ تر کئی کئی افراد مل کر اسے تیار کرتے۔قبل از اسلام یمن کے ایک تاجر ابو ربیعہ بن المغیرہ المخزومی نے قریش کے سامنے پیش کش کی کہ وہ اکیلا ہی غلاف کعبہ تیار کرے گا۔ قریش نے اس کی پیش کش قبول کرلی۔ وہ کئی سال تک غلاف بنا کر قریش کو فروخت کرتا۔ اس کی انصاف پسندی کی وجہ سے اسے جاننے والے عادل شخص قرار دیتے۔ ظہور اسلام سے تھوڑا عرصہ قبل وہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔تاریخ کی کتب میں غلاف کعبہ کی تیاری کا تذکرہ بہت ہے اور یہ بھی غلاف کعبہ زیادہ تر مرد حضرات کا کام تھا تاہم تاریخ میں کچھ خواتین کے نام بھی ملتے ہیں جو غلاف کعبہ تیار کرتیں۔ ان میں تین خواتین زیادہ مشہور ہوئیں۔ ان میں النوار بنت مالک پہلی مشہور خاتون ہیں جنہوں نے غلاف کعبہ تیار کیا۔ وہ صحابی رسول زید بن ثابت کی ماں ہیں۔ایک دفعہ انہوں نے کہا کہ زید کی پیدائش سے قبل میں جب امید سے تھی تو میں میرے ذہن میں غلاف کعبہ کی تیاری کا خیال پیدا ہوا۔ میں نے عربوں سے سن رکھا تھا کہ غلاف کعبہ کی تیاری بہت بڑے اعزاز اور شرف کا کام ہے۔قبیلہ قریش کے عمربن الحکم کا کہنا تھا کہ میری ماں نے آنحضور کی ھجرت مدینہ سے قبل خانہ ایک اونٹنی کی نذر مانی۔ یہ قربانی بیت اللہ کے اندر دی گئی تھی تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا۔اسلام سے قبل غلاف کعبہ

تیارکرنے والی خواتین میں ایک نام نتیلہ بنت جناب ام عباس بن عبدالمطلب کا بھی ملتا ہے۔ انہوں نے ریشم سے غلاف کعبہ کی متعدد اقسام تیار کیں۔تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ عباس بن عبدالمطب چھوٹی عمر میں گم ہوگئے تو اس کی ماں نے یہ نذرمانی کہ اگر اس کا بیٹا مل گیا

تو وہ غلاف کعبہ تیار کرے گی۔ پھر وہ مل گئے تو غلاف کعبہ بنانے کی نذر پوری کی گئی۔نتیلہ آخری خاتون تھیں جنہوں نے قریبا 1500 سال قبل غلاف کعبہ تیار کیا۔ اس کے بعد یہ شرف اہل قریش کے پاس ہی رہا اور کسی اور خاتون کا غلاف کعبہ کی تیاری میں کوئی کردار نہیں ملتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…