اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد پولیس کی سب سے اہم اور اختیارات سے بھرپور پوسٹ ایس ایس پی آپریشن کیسے لگایا جائے۔ اس معاملے پر نگران حکومت اس سے پہلے مسلم لیگ ن کی حکومت اور اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی پسند نا پسند اور دوسرے مسائل سے دو چار نظر آتی ہے۔ اسلا آباد پولیس کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ ایس ایس پی آپریشن کے عہدے پر تعینات رہنے والے ساجد کیانی کے بعد گزشتہ آٹھ ماہ میں مسلم لیگ نواز،
نگران حکومت اور اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس اہم اور اختیارات سے بھرپور پوسٹ کو تماشا بنا کر رکھ دیا ہے لیکن اس سارے معاملے میں عوام چوری کارلفٹنگ‘ موبائل کے چھینے جانے ڈکیتی و راہزنی اور دوسرے اہم مسائل سے دو چار ہیں لیکن حکومت اور وزارت داخلہ کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہے اسلام آباد کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ ایس ایس پی آپریشن رہنے والے ساجد کیانی جو کہ 31 ماہ تک ایس ایس پی آپریشن تعینات رہنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں اور کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ اسلام آباد کے باسی لاوارث ہیں جو چاہے کرو۔ ساجد کیانی کے جانے کے بعد وزیر داخلہ احسن اقبال کی سفارش پر نجیب الرحمن بھگوی کو ایس ایس پی آپریشن لگایا گیا اور انہوں نے صرف اور صرف ٹائم پاس کیا جبکہ پولیس کے معتبر ذرائع کے مطابق نجیب الرحمن بھگوی اور ان کے ایس ایچ او کے ساتھ ساتھ ان کے ایس پی اور ڈی ایس پی کے ساتھ ان کا رویہ ٹھیک نہیں تھا جس کی وجہ سے نجیب الرحمن بھگوی اور ان کے جونیئرز کے درمیان ایک رابطہ کا فقدان آیا جس کا خمیازہ بھی عوام نے بھگتا نئی حکومت کے آتے ہی ایس ایس پی آپریشن سید امین بخاری کو تعینات کیا گیا ان کو بلوچستان سے اسلام آباد بلایا گیا تھا جبکہ ذرائع کے مطابق امین بخاری کو وزیر داخلہ شہریار آفریدی کیسفارش پر ایس ایس پی آپریشن تعینات کیا گیا تھا سید امین بخاری انتہائی ایمانداری اور محنت سے اسلام آباد کے تمام تھانوں اور معاملات سے واقف ہونے کی کوشش کررہے تھے کہ انہیں ہٹا دیا گیا جبکہ سید امین بخاری کو کیوں ہٹایا گیا اس کا جواب کسی کے پا س نہیں۔
سید امین بخاری کے بعد سید وقار الدین کو ایس ایس پی تعینات کیا گیا اسلام آباد ایس ایس پی آپریشن تعیناتی کے وقار الدین ابھی صحیح طور پر معاملات کو سمجھ ہی نہ سکے تھے کہ انہیں ڈی آئی جی آپریشن کے عہدے پر تعینات کردیا گیا اور ان کی جگہ غیاث گل کو ایس ایس پی آپریشن لگا دیا گیا کل وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ایس ایس پی آپریشن غیاث گل کو لگایا اور ڈی آئی جی آپریشن وقار الدین کو تعینات کیا آج ساتھ ہی وزیراعظم ہاؤس نے کل جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو روک دیا جبکہ وزارت داخلہ نے میاں سعید کی خدمات کیلئے ایس ایس پی آپریشن کو خط لکھ دیا
حکومت کیوں بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس کی سمجھ تو نہیں آرہی لیکن اس ساری صورتحال میں اسلام آباد کو لاوارث کردیا گیا ہے اور اسلام آباد کے شہری سرعام لوٹتے جارہے ہیں گاڑیاں چوری ہورہی ہیں گن پوائنٹ پر موبائل فون اور نقدی چھینی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ حکومت صرف اور صرف اپنی مرضی کے آفیسر کو تعینات کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ عوام کی حکومت کو کوئی فکر نہیں ایک سینئر پولیس آفیسر کے مطابق سول سرونت کی اس سے بڑی توہین ا ور بے عزتی نہیں ہوسکتی کہ اسے ایک پوسٹ پر لگایا جائے سینئر پولیس آفیسر نے بتایا کہ اس عمل میں عوام پریشان ہے اور اس سرعام لٹ رہی ہے اس میں نہ حکومت کو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی تبدیل ہونے والے آفیسر کو۔



















































