پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

اوباما اپنی پالیسیوں سے مشرقِ اوسط کو 20 سال پیچھے لے گئے : شہزادہ بندر بن سلطان

datetime 27  جنوری‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے واشنگٹن میں سابق سفیر اور ماضی میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے شہزادہ بندر بن سلطان نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی اختیار کردہ پالیسیوں کو مشرقِ اوسط میں جاری بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خطے کو ان پالیسیوں سے بیس سال پیچھے لے گئے تھے۔ان ہی سے شام میں جاری بحران کی راہ ہموار ہوئی اور سعودی عرب نے

امریکی رجیم کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔عرب ٹی وی کو انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ اگر شاہِ ایران صدام حسین کو خمینی کو عراق سے بے دخل کرنے پر مجبور نہ کرتے تو آج خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔آیت اللہ خمینی تب عراق میں ایک گھر میں نظر بند تھے اور انھیں بے دخل کرکے فرانس بھیج دیا گیا تھا۔انھوں نے قطر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے سابق وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نصف سچائی کے ماہر تھے۔انھوں نے قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ اور حمد بن جاسم کی لیبیا کے مقتول لیڈر معمر قذافی سے گفتگو کی ریکارڈنگ کا حوالہ دیا ،اس میں جاسم سعودی عرب کو ہدف بنانے کی اسکیموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنے گئے تھے۔شہزادہ بندر نے کہا کہ افشا ہونے والی اس آڈیو میں بن جاسم نے ان اسکیموں کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ’’ صرف آدھا سچ بولو‘‘ لیکن پورا سچ یہ تھا کہ یہ سازش اور منصوبہ حقیقی تھا اور اس کی شکل وہ نہیں تھی جس کی تصویر قطر نے معمر قذافی کو اس سازش میں پھانسنے کے لیے پیش کی تھی۔انھوں نے کہا کہ قطر کو اپنی ہی پالیسیوں کی وجہ سے انشقاقِ ذہنی ( شیزو فرینیا) کا مرض لاحق ہوچکا ہے مگر امریکا کے ایک فوجی اڈے کی موجودگی کا مطلب دوحہ میں نظام کا تحفظ کرنا ہرگز بھی نہیں ہے کیونکہ یہ اڈا صرف امریکیوں کے زیر استعمال ہے اور قطر کے استعمال کے لیے نہیں ہے۔انھوں نے انکشاف کیا کہ انھوں

ہی نے برطانوی حکومت سے بشارالاسد کی لندن میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بات چیت کی تھی تاکہ وہ طب میں گریجوایشن کے بعد لندن میں شعبہ بصارت ( آفتھلمالوجی) کے خصوصی کورس میں داخلہ لے سکیں۔انھوں نے شام میں سکیورٹی فورسز کی پْرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کارروائیوں کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین  سے اپنی ملاقات کا احوال بھی بیان کیا ،ان کے بہ قول صدر پوتین نے کہا کہ یہ تو سعودی ہی تھے جنھوں نے بشارالاسد کی انا کا پارہ بلند کیا تھا۔انھوں نے بشارلاسد کے صدر بننے کے بعد ان کی سابق

فرانسیسی صدر ڑاک شیراک اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا تھا۔صدر پوتین نے اس ملاقات میں شہزادہ بندر بن سلطان کو یہ بھی بتایا کہ انھوں نے بشارالاسد کو ایک سے زیادہ مرتبہ ماسکو کے دورے کی دعوت دی تھی لیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا لیکن اب وہ میری مدد کے لیے کہنیوں کے بل چل کر آئیں گے۔نھوں نے ان دعووں کو بھی سختی سے مسترد کردیا کہ ان کا داعش کے قیام میں کوئی ہاتھ کارفرما تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ اس ضمن میں اپنے خلاف الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…