پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

اوباما اپنی پالیسیوں سے مشرقِ اوسط کو 20 سال پیچھے لے گئے : شہزادہ بندر بن سلطان

datetime 27  جنوری‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے واشنگٹن میں سابق سفیر اور ماضی میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے شہزادہ بندر بن سلطان نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی اختیار کردہ پالیسیوں کو مشرقِ اوسط میں جاری بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خطے کو ان پالیسیوں سے بیس سال پیچھے لے گئے تھے۔ان ہی سے شام میں جاری بحران کی راہ ہموار ہوئی اور سعودی عرب نے

امریکی رجیم کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔عرب ٹی وی کو انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ اگر شاہِ ایران صدام حسین کو خمینی کو عراق سے بے دخل کرنے پر مجبور نہ کرتے تو آج خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔آیت اللہ خمینی تب عراق میں ایک گھر میں نظر بند تھے اور انھیں بے دخل کرکے فرانس بھیج دیا گیا تھا۔انھوں نے قطر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے سابق وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نصف سچائی کے ماہر تھے۔انھوں نے قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ اور حمد بن جاسم کی لیبیا کے مقتول لیڈر معمر قذافی سے گفتگو کی ریکارڈنگ کا حوالہ دیا ،اس میں جاسم سعودی عرب کو ہدف بنانے کی اسکیموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنے گئے تھے۔شہزادہ بندر نے کہا کہ افشا ہونے والی اس آڈیو میں بن جاسم نے ان اسکیموں کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ’’ صرف آدھا سچ بولو‘‘ لیکن پورا سچ یہ تھا کہ یہ سازش اور منصوبہ حقیقی تھا اور اس کی شکل وہ نہیں تھی جس کی تصویر قطر نے معمر قذافی کو اس سازش میں پھانسنے کے لیے پیش کی تھی۔انھوں نے کہا کہ قطر کو اپنی ہی پالیسیوں کی وجہ سے انشقاقِ ذہنی ( شیزو فرینیا) کا مرض لاحق ہوچکا ہے مگر امریکا کے ایک فوجی اڈے کی موجودگی کا مطلب دوحہ میں نظام کا تحفظ کرنا ہرگز بھی نہیں ہے کیونکہ یہ اڈا صرف امریکیوں کے زیر استعمال ہے اور قطر کے استعمال کے لیے نہیں ہے۔انھوں نے انکشاف کیا کہ انھوں

ہی نے برطانوی حکومت سے بشارالاسد کی لندن میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بات چیت کی تھی تاکہ وہ طب میں گریجوایشن کے بعد لندن میں شعبہ بصارت ( آفتھلمالوجی) کے خصوصی کورس میں داخلہ لے سکیں۔انھوں نے شام میں سکیورٹی فورسز کی پْرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کارروائیوں کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین  سے اپنی ملاقات کا احوال بھی بیان کیا ،ان کے بہ قول صدر پوتین نے کہا کہ یہ تو سعودی ہی تھے جنھوں نے بشارالاسد کی انا کا پارہ بلند کیا تھا۔انھوں نے بشارلاسد کے صدر بننے کے بعد ان کی سابق

فرانسیسی صدر ڑاک شیراک اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا تھا۔صدر پوتین نے اس ملاقات میں شہزادہ بندر بن سلطان کو یہ بھی بتایا کہ انھوں نے بشارالاسد کو ایک سے زیادہ مرتبہ ماسکو کے دورے کی دعوت دی تھی لیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا لیکن اب وہ میری مدد کے لیے کہنیوں کے بل چل کر آئیں گے۔نھوں نے ان دعووں کو بھی سختی سے مسترد کردیا کہ ان کا داعش کے قیام میں کوئی ہاتھ کارفرما تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ اس ضمن میں اپنے خلاف الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…