پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد بے گناہ تھے، جن لوگوں نے یہ منصوبہ ترتیب دیا تھا ان کے دل میں جوابدہی کا کوئی خوف نہیں تھا، سابق آئی جی موٹر وے کھل کر بول پڑے

datetime 20  جنوری‬‮  2019 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال میں جو سانحہ ہوا ہے اس پر ملک کے ہر شخص کا دل دکھا ہے، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس نے بڑے اچھے کام کیے ہیں مگر ہر ادارے میں سزا اور جزا کا عمل ساتھ ساتھ چلتا ہے،

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ اچھا کام کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو ہر کام کرنے کی آزادی دے دی جائے، ذوالفقار چیمہ نے کہا کہ سانحہ ساہیوال میں پیشہ ورانہ قابلیت کا بالکل مظاہر ہ نہیں کیا گیا، گاڑی کو روک کر خواتین اور بچوں کو الگ کیا جا سکتا تھا، سابق آئی جی نے کہا کہ جتنی بھی معلومات ملی ہیں، ان کے مطابق خلیل اور اس کا خاندان بالکل بے گناہ ہیں۔ جس طریقے سے ان کے ساتھ لوگوں نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ ان کا غلط لوگوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، دوسرا حکومت نے بھی امداد کا اعلان کر دیا ہے جب تک حکومت پر واضح نہ ہو تو کوئی حکومت اتنی جلدی امداد کا اعلان نہیں کرتی ہے، سابق آئی جی نے کہا کہ اس لیے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ بے گناہ تھے، ذوالفقار چیمہ نے کہا کہ یہ واقعہ دیکھ کر لگتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا، ان کے دل میں احتساب اور جواب دہی کا کوئی خوف نہیں تھا۔ سابق آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال میں جو سانحہ ہوا ہے اس پر ملک کے ہر شخص کا دل دکھا ہے، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس نے بڑے اچھے کام کیے ہیں مگر ہر ادارے میں سزا اور جزا کا عمل ساتھ ساتھ چلتا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ اچھا کام کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو ہر کام کرنے کی آزادی دے دی جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…