پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

سانحہ ساہیوال، ریاست مدینہ میں نیل کنارے مرنے والے کتے کی ذمہ داری خلیفہ وقت اٹھاتا تھا، بلاول زرداری کی عمران خان پر تنقید، شہر میں 20 روز میں 47 بچے انتقال کر گئے اس کا جواب کون دے گا؟

datetime 20  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پولیس کے ہاتھوں ساہیوال میں شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے پنجاب کوپولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ساہیوال کا سانحہ ایک پیغام ہے کہ نئے پاکستان میں شہری بال بچوں کے ساتھ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ

معصوم بچوں کے سامنے والدین کا قتل گڈ گورننس کے جھوٹے دعوؤ ں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہ تحریک انصاف کی گڈ گورننس کا شاخسانہ ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد حکومت لاپتہ ہوگئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ریاست مدینہ میں دریائے نیل کے کنارے مرنے والے کتے کی ذمے داری خلیفہ وقت اٹھاتا تھا۔ ریاست مدینہ کی پیروی کے دعویدار آج کے حکمران بتائیں کہ سانحہ ساہیوال کا ذمے دار کون ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کا اس معاملے کی تحقیقات کے اعلانات درحقیقت ہیڈ لائنزگریبنگ کے علاوہ کچھ نہیں۔ نیازی سرکاری کی تحقیقات پر کسی کو اعتماد نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اہل خانہ اور وزراء4 کو خوش کرنے کے لئے ایس ایس پیز اور آئی جیز کو تبادلہ کرنے والوں سے انصاف نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ٹیوٹر والی سرکار دروگ گوئی اور مخالفین پر الزام بازی کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔ نیا پاکستان کے نام پر ملک میں جنگل کا قانون لاگو کر دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو کے بیان کہ ریاست مدینہ میں نیل کنارے مرنے والے کتے کی ذمہ داری خلیفہ وقت اٹھاتا تھا کے جواب میں ایک ٹویٹ سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ تھرپارکر میں 20 روز میں 47 بچے انتقال کر گئے، یہ محکمہ صحت کے ذرائع کے حوالے سے ٹویٹ تھا، جو کہ پیپلز پارٹی سندھ حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہے کہ ان بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب کون دے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…