جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر سے ٹیکس چوروں کے 50 ہزار بیرونی ملک اکاؤنٹس کا ڈیٹا مل گیا

datetime 18  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے دنیا بھر سےٹیکس چوروں کے پچاس ہزار بیرونی ملک اکاؤنٹس کا ڈیٹا حاصل کرلیا، جس میں زیادہ تر افرادکا تعلق کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیاں تیز کردی اور کہا ٹیکس چوروں کےبیرونی ملک اکاؤنٹس کی تفصیلات کاپہلا مرحلہ شروع ہوگیا ہے ۔

جس میں دنیا بھر سے پچاس ہزاربینک اکاؤنٹس کا ڈیٹا مل گیا، بیرون ملک اکاؤنٹس اسپین،اٹلی،فرانس،جرمنی ودیگرممالک میں ہیں، جس میں زیادہ تر افراد کا تعلق کراچی، لاہور اور اسلام آبادسے ہے۔ ممبر ایف بی آر نے بتایا اوای سی ڈی کےتحت معلومات ملناشروع ہو گئی ہیں، جنہیں خفیہ رکھنے کے پابند ہیں، اگلے دوسال بیرون ملک بینکوں میں اکاونٹ رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ ایف بی آر کے مطابق دبئی میں پانچ سو سینتیس افراد کی تیرہ سو پینسٹھ جائیدادوں کی تحقیقات کی گئیں اور جس کے بعد دبئی میں اڑتیس ارب کی آٹھ سو سرسٹھ پراپرٹی ثابت کی جا سکیں جبکہ تین سو سولہ افراد نے ایمنسٹی اسکیم میں پراپرٹی قانونی بنائی، اسکیم میں ایک ارب بیس کروڑ کا ٹیکس ملا۔ یاد رہے چند روز قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس بچانے اور اثاثے چھپانے والے امیروں کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا، ملک بھرکے ریجنل ٹیکس دفاتر کو کارروائی کی ہدایت جاری کر دی گئی کہ وکیل کے بجائے ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے گا، وضاحت نہ دینے پر وارنٹ جاری ہوں گے۔ خیال رہے گذشتہ سال اکتوبر میں ٹیکس چوروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوا تھا ، جس میں ایف بی آر نے ایک سو انہتر بڑے ٹیکس چوروں کو نوٹسسز جاری کئے تھے۔ ایف بی آر اعلامیہ میں کہا گیا تھا ایک سو انہتر ہائی ویلیو ٹارگٹس کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز کیا ہے، ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو کہ بڑی بزنس ٹرانزیکشنز اور ڈیلز میں شامل ہیں، یہ افراد 3000 سی سی کی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اور ماہانہ 10 لاکھ سے زائد کرائے کی آمدن میں حاصل کرتے ہیں۔ اعلامیہ میں واضع کیا گیا تھا کہ دوسرے مرحلے میں ایسے افراد کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے گا، جنھوں نےگزشتہ چند سالوں میں 2 کروڑ روپےکی پراپرٹی اور 1800سی سی یا اس سے زائد کی گاڑیاں خریدیں، اس کے علاوہ ایک کروڑ روپےسالانہ کرائے کی مد میں کمانے والے بھی ریڈار پر ہوں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…