جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

معاشی خود کفالت ہی مسائل کا حل،ٹیکسوں کا نظام بدلنا ہو گا : خواجہ حبیب الرحمان

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )ایران پاک فیڈریشن آ ف کلچراینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ دوست ممالک کے اقتصادی پیکیجز سے مالیاتی بحران وقتی طور پر ٹل ضرور گیا ہے لیکن ختم نہیں ہوا،معیشت کو درپیش متعدد چیلنج اور خطرات بدستور برقرار ہیں، بحالی اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کیلئے کاروبار دوست اور عدل پر مبنی ٹیکس پالیسی وضع کر نے کی ضرورت ہے۔

ٹیکسوں کے نظام میں عدل پر مبنی بنیادی اصلاحات کئے بغیر نہ تو پاکستان کی بیمار معیشت میں پائیدار بہتری آ سکتی ہے اور نہ ہی قرضوں پر انحصارکم ہو سکتا ہے، معیشت کی پائیدار بہتری کیلئے قومی بچتوں کا بڑھانا بھی ازحد ضروری ہوتا ہے اس مقصد کے حصول کیلئے بنکوں کو پابند کرنا ہو گا کہ وہ معاہدے کے مطابق اپنے کھاتے داروں کو اپنے منافع میں شریک کریں۔ ان خیالات کا ظہار انہوں نے خانیوال چیمبر آف کامرس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معاشی خودکفالت کے لئے سی پیک کی تکمیل و فعالیت کے لئے شبانہ روز محنت کرنا ہوگی اور ملک کے تمام تر دیگر وسائل کو بھی بروئے کار لانا ہوگا، بیرونی قرضوں اور سی پیک کے تحت بیرونی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے برآمدات میں تیزی سے اضافہ کرنا ضروری ہے وگرنہ آنے والے برسوں میں ایک اور مالی بحران پاکستان کا منتظر ہو گا۔خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ گزشتہ 5برسوں میں پاکستان کو 135ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا جبکہ 93ارب ڈالر کی ترسیلات کو تجارتی خسارے کی مال کاری کیلئے استعمال کیا گیا جو آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے اب وقت آ گیا ہے کہ بیرونی اور ملکی وسائل میں ہم آہنگی قائم کی جائے اور تحریک انصاف 2013ء اور 2018ء کے انتخابی منشور اور وعدوں کی روشنی میں تیزی سے اصلاحات کرے تاکہ آئی ایم ایف سے تین سالہ پیکیج لینے کے باوجود ایک سال بعد ہی قرضے کی بقایا اقساط لینے کے بجائے آئی ایم ایف کے پروگرام سے باہر آیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…