جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

رواں مالی سال: حکومت نے 5 ماہ کے دوران 22 کھرب 40 ارب روپے کا قرض لیا

datetime 8  جنوری‬‮  2019 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)  اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں مجموعی طور پر 22 کھرب 40 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق کم ریونیو کلیکشن کے دباؤ کے تحت حکومت اپنے بڑھتے ہوئے ملکی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض لے رہی ہے۔

جبکہ بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے حکومت کو مجبور کردیا ہے کہ وہ بیرونی خلا پورا کرنے کے لیے ڈالر حاصل کرے۔ مالی سال 2019 کے 5 ماہ کے دوران حکومت کا کل خسارہ 22 کھرب 40 ارب روپے یا 9.25 فیصد اضافے کے ساتھ 264 کھرب 52 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران حکومت کا ملکی خسارہ 907 ارب روپے سے بڑھ کر 173 کھرب 23 ارب روپے ہوگیا جبکہ غیر ملکی خسارے میں بھی بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا اور بیرونی قرضہ 13 کھرب 34 ارب روپے سے بڑھ کر 91 کھرب 3 ارب روپے ہوگیا۔ بیرونی قرضے میں اضافے بے تحاشہ اضافے کی ایک اور وجہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 15 فیصد تک اضافہ بھی ہے کیونکہ جون کے اختتام پر ایک ڈالر 121 روپے 54 پسے کا تھا جو نومبر کے اختتام تک 140 روپے 26 پیسے سے زائد کا ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے اپنے اندرونی قرض کو بنیادی طور پر خزانے کے بل پر انحصار کرکے مختصر مدت کے قرض کے ذریعے بڑھایا اور مالی سال 2019 کے پہلے 5 ماہ میں مختصر مدت کا قرض 11 کھرب 68 ارب روپے سے بڑھ کر 100 کھرب 57 ارب روپے ہوگیا۔ رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے روپے کے قرض کے لیے مرکزی بینک پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا۔ تاہم وفاقی حکومت کے بانڈز کی قدر نمایا حد تک کم ہوئی اور 3 سو 33 ارب روپے کم ہونے کی وجہ سے رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں بانڈز سے حاصل ہونے والا قرض کم ہو کر 34 کھرب 67 ارب روپے ہوگیا جبکہ اسی عرصے کے دوران حکومت کو نیشنل سیونگ اسکیم کی مدد سے بھی زیادہ آمدن حاصل نہیں ہوئی۔ اسی دوران حکومت کی جانب سے کرنٹ اکاؤنٹ کے بیرونی فرق کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اب تک ملک کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول ہوچکے ہیں جبکہ چین اور متحدہ عرب امارات سے مزید ڈالرز کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…