بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

زیادہ سونا موت کو دعوت دینے کے مترادف، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 5  جنوری‬‮  2019 |

یورپ (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ جانتے ہیں کہ زیادہ سونا موت کی علامت ہے؟ یورپ میں ہونے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ روزانہ رات کو 8 گھنٹے سے زیادہ نیند لیتے ہیں وہ جلد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یورپین ہارٹ جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق

روزانہ رات کو 8 گھنٹے سے زیادہ سونا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے کیونکہ ایسے لوگوں کو عارضہ قلب اور جلد مایوسی کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی بھی طبی تحقیق میں زیادہ سونے کو موت کی دعوت دینا قرار دیا گیا وگرنہ اس سے قبل ماہرین نے کم سونے والے افراد کو قبل از وقت موت سے آگاہ کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق آجکل کے نوجوانوں میں بہت زیادہ سونے کی عادت ہے جو کسی بھی بڑے خطرے سے کم نہیں کیونکہ نوجوان اس کی وجہ سے موت کے منہ مین تیزی سے جارہے ہیں۔تحقیق میں یہ بات سانے آئی کہ زیادہ سونا انسانی صحت کے لیے مضر ہے، وہ لوگ جو ہر تین گھنٹے بعد کچھ دیر کے لیے سوتے ہیں انہیں چاہیے کہ ماہرین سے فوری طور پر رجوع کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح رات میں 8 گھنٹے سونا صحت مندی کی علامت ہے کیونکہ زائد نیند لینے سے انسان کے جسم میں بننے والا گلوکوز ختم ہوجاتا ہے جو میٹابولزم کو شدید متاثر کرتا ہے۔ چین کے پیکنگ یونین میڈیکل کالج نے تحقیق کے دوران 21 ممالک کے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کی تفصیلات جمع کیں اور اُن کے نتائج پر رپورٹ مرتب کی۔ پاکستان کو کم آمدنی والے ممالک میں شامل کر کے یہاں کے شہریوں کا ڈیٹا بھی اکھٹا کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق بالخصوص سردیوں میں کمبل اوڑھ کر سونے والے نوجوان 8 گھنٹے سے زائد نیند لیتے ہیں جو کسی بڑی بیماری کی طرف اشارہ ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مطالعے میں شامل ہونے والے مجموعی افراد میں سے 7.8 عارضہ قلب، ذیابیطس، کینسر جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ تحقیقاتی نتائج میں اس بات کو کھل کر بیان کیا گیا ہے کہ دن میں سونے یا نہ سونے سے انسانی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ روزانہ رات کو 6 سے 8 گھنٹے کی نیند لینا ہر شخص کے لیے بہت ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…