منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

’’کرپشن کی رقم کا کچھ حصہ واپس کرکے معافی کا نیب قانون ‘‘ رقم واپسی سے جرم ختم نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو قانون میں ترمیم کیلئے کب تک کی مہلت دیدی؟

datetime 20  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو نیب پلی بارگین قانون میں ترمیم کیلئے فروری کے پہلے ہفتے تک مہلت دیدی، دی گئی مہلت تک ترمیم نہ ہوئی تو سپریم کورٹ خود فیصلہ کرے گی، جسٹس عظمت سعید کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب کے پلی بار گین قانون میں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ کو فروری کے پہلے ہفتے تک مہلت دیدی ہے ۔

عدالت میں سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ عدالت کی طرف سے دی گئی مہلت تک ترمیم نہ ہوئی تو سپریم کورٹ خود فیصلہ کرے گی۔ عدالت کو قانون کالعدم قرار دینے کا مکمل اختیار ہے۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم بھی عدالت کو ہی کرنا پڑے گی، لیبر پارٹی برطانیہ نے اپنی رکن پارلیمنٹ کو اوور سپیڈنگ پرمعطل کر دیا تھا، ہمیں پتا نہیں کونسی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں، رضاکارانہ رقم واپسی سے جرم ختم نہیں ہو سکتا، رضاکارانہ رقم واپسی دراصل اعتراف جرم ہوتا ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا پاکستان کے قانون میں انتظامی حکم سے جرم ختم کرنے کی گنجائش نہیں، نیب تو انکوائری شروع کر کے لوگوں کو رضاکارانہ رقم واپسی کیلئے خط لکھتا تھا، سڑکوں پر آواز لگائی جاتی تھی کرپشن کر لو اور معافی لے لو۔جسٹس عظمت سعید نے کہا پاکستان کے قانون میں انتظامی حکم سے جرم ختم کرنے کی گنجائش نہیں، نیب تو انکوائری شروع کر کے لوگوں کو رضاکارانہ رقم واپسی کیلئے خط لکھتا تھا، سڑکوں پر آواز لگائی جاتی تھی کرپشن کر لو اور معافی لے لو۔ سپریم کورٹ نے نیب کے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون پر از خودنوٹس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ نیب کے پلی بار گین قانون کے تحت ملزمان رضاکارانہ طور پر رقم کا کچھ حصہ واپس کر کے کارروائی سے بچ جاتے تھے اور ایک بار پھر عوامی و سرکاری عہدوں پر فیصلہ نہ ہونے کے باعث براجمان ہو جاتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…