جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

میری بدنامی ہو رہی ہے، کیمرہ مین پر تشدد کا واقعہ نواز شریف نے خاموشی توڑ دی، اپنے ہی سکیورٹی گارڈ بارے کیا اعلان کر دیا؟

datetime 18  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے سیکیورٹی گارڈ کی جانب سے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین پر تشدد پر صحافیوں سے افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ صحافی پر تشدد سے دکھ ہوا، عدالت کے باہر گارڈ شکور نے راستہ کلیئر کرا تے ہوئے کیمرہ مین کو دھکا دیا ، صحافی نے کیمرہ شکور کے ماتھے پر مارا، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے،

مجھے برا لگا، گا رڈ کی بدسلوکی سے میری بدنامی ہوئی ۔منگل کو سابق وزیر اعظم نواز شریف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کے لیے اسلام آباد کی احتساب عدالت پہنچے تو صحافیوں نے گزشتہ روز پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ پر شدید احتجاج کیا۔نواز شریف سماعت کے بعد عدالت سے باہر آئے تو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔نواز شریف نے کہا کہ سیکیورٹی گارڈز کے خلاف جو قانون کے مطابق کارروائی ہوئی اس میں ہر قسم کا تعاون کریں گے، مریم اورنگزیب سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی ہے، یہ بات یقین سے کہہ رہا کہ سب کام قانون کے مطابق ہوگا۔نواز شریف نے کہا کہ میں کل اسمبلی سے باہر آیا تو سیکورٹی اہلکار میرے لیے راستہ بنا رہا تھا، کل جو مسئلہ ہوا وہ بہت برا ہوا، مجھے اس بات کا افسوس ہے اور یہ موقعہ نہیں آنا چاہیے تھا۔ قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا زیادتی کہیں سے بھی نہیں ہونی چاہیے اور ہر طرف انصاف ہونا چاہیے، شکور کے خلاف بھی ایکشن لوں گا، صحافی گاڑی کے پاس آئے تو شکور نے کیمرہ مین کو دھکا دیا، مجھے اعتراض اس بات پر بھی ہے کہ کیمرہ مین نے بھی اپنا کیمرہ شکور کے سر پر مارا، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، مجھے برا لگا۔نواز شریف نے مزید کہا کہ میرا میڈیا کے ساتھ اچھا تعلق رہا ہے، عدالتوں میں جو بھی کارروائی ہوتی رہی اس میں آپ سب ساتھ رہے، ایسے وقت میں کیسے آپ سب سے الگ ہو جاوں یا بگاڑلوں، آپ سب بلاخوف رپورٹنگ کرتے ہیں، ہمارے آپ کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا گارڈ کی بدسلوکی سے میری بدنامی ہوئی ، ایسے واقعے کی کبھی خواہش نہیں رہی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…