ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

لاپتہ ہونے والی ملائشین ائیر لائن کی پرواز MH 370 کی گمشدگی کا معمہ حل؟ مسافروں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 16  دسمبر‬‮  2018 |

نیویارک (نیوز ڈیسک) ملائیشین ایئرلائن کی فلائٹ ایم ایچ 370، جس میں 239 مسافر سوار تھے، کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے پُراسرار طور پر 8 مارچ 2014ء کو لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس جہاز سے آخری پیغام کی وصولی کے وقت جہاز بحیرہ جنوبی چین پر پرواز کر رہا تھا، جہاز کی تلاش کی تمام عالمی کوششوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، عام خیال کیا جا رہا تھا کہ اس بدقسمت جہاز کا ملبہ بحرہند میں کہیں گم ہو گیا ہے

لیکن اب اس جہاز کے بارے انتہائی لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، ڈیلی سٹار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میڈیا کمپنی فوکس کی سابق ایگزیکٹو ڈارلین لیبلک ٹپٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پرواز کو مسافروں کے اعضاء نکالنے کے لیے ہائی جیک کیا گیا تھا اور اس حوالے سے معلومات جلد سامنے آ سکتی ہے۔ طیارہ لاپتہ ہونے کے 46 دن بعد ڈارلین کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا، انہوں نے بتایا کہ میں نیٹ ورک کے سٹینڈرڈز اینڈ پریکٹسسز ڈیپارٹمنٹ کی نائب صدر تھی اور حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے اپنے دفتر کے ای میل ایڈریس کے ذریعے چندہ جمع کر رہی تھی۔ ڈارلین نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ یہ طیارہ سمندر میں نہیں گرا بلکہ اس کو ہائی جیک کیا گیا تھا تاکہ مسافروں کے جسمانی اعضاء کو نکال کر چین کی مارکیٹ میں بیچا جا سکے، انہوں نے کہا کہ کسی نامعلوم مقام پر طیارے کو اتارا گیا جہاں تمام مسافروں کو قتل کرکے ان کے جسمانی اعضاء نکال لیے گئے، انہوں نے بتایا کہ اس طیارے میں سوار متعدد مسافروں کا تعلق فیلون گونگ گروپ سے تھا، واضح رہے کہ اس پرواز پر 153 چینی سوار تھے، ڈارلین نے کہا کہ یہ نسلی گروپ چین میں خارجی سمجھا جاتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ انہی کے جسمانی اعضاء نکالے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے پاس ایک چینی ہارڈ ڈرائیو ہے جس میں ایسی تفصیلی اطلاعات اور ویڈیوز ہیں جو میرے دعوے کی تصدیق کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں اس حادثے پر فلم بنانے والی ہوں اور فلم ریلیز ہونے سے قبل یہ تمام معلومات ظاہر نہیں کی جا سکتیں، ڈارلین نے کہا کہ فلم کے آخر میں اس ڈرائیو میں موجود چند ویڈیوز کو دکھایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…