پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

وفاقی کابینہ کادوسرا خصوصی اجلاس ،10 مزید وزارتوں کی 100 روزہ کاجائزہ مکمل،وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ بڑافیصلہ کرلیاگیا

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)وزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے دوسرے خصوصی اجلاس میں10 مزید مختلف وزارتوں کی گزشتہ 100 دنوں کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا جب کہ وزارتوں کی جانب سے مستقبل کے پلان اور اس پر عملدرآمد کے لائحہ عمل وزیر اعظم کو پیش کر دیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ہر 3 ماہ بعد منعقد ہوگا ۔ ہفتہ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت یہاں وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا ۔

جس میں 10 مختلف وزارتوں کی گزشتہ 100 دنوں کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کئی گھنٹے تک جاری رہا جس میں وزیر اعظم کی کفایت شعاری مہم کی جانب سے وزارتوں کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات اور ان کے مثبت اثرات پر بھی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کے دوران وزارتوں کی جانب سے مستقبل کے پلان اور اس پر عملدرآمد کے لئے لائحہ عمل بھی وزیر اعظم کو پیش کیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ہر تین ماہ بعد منعقد کیا جائے گا ۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس ہوا تھا جس میں 26 وزرا کی 3 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تھا گزشتہ خصوصی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے وزرا سے کارکردگی پر فرداً فرداً سوال کیے تھے اور وزرا کو کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ہدایات اور مشورے دیئے تھے۔وفاقی کابینہ کا اجلاس 9 گھنٹے سے زائد جاری رہا تھا جس میں وزیر اعظم وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیر مملکت برائے مواصلات مراد سعید کی کارکردگی سے خوش ہوئے تھے جس کے بعد مراد سعید کو وفاقی وزیر بنادیا گیا ۔ اب بقیہ10 وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہفتہ کو ہوا۔10 مزید مختلف وزارتوں کی گزشتہ 100 دنوں کی کارکردگی کے جائزہ کے بعد مجموعی طور پر جائزہ لی گئی وزارتوں کی مجموعی تعداد 36 ہوگئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…