اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

’’پاکستان کو ریاست مدینہ بنانیوالوں نے شراب بیچنے کی آزادی دیدی ‘‘ اسمبلی میں شراب کے اجازت نامے منسوخ کرنے کے بل پر کیسے یوٹرن لیا گیا؟ امیر جماعت اسلامی سراج الحق حکومت پر برس پڑے

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ جب ہر پاکستانی کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آنے لگے گی تو ہم سمجھیں گے کہ حکومت کامیاب ہو گئی۔گزشتہ روز فیصل آباد میں حرمت رسول کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ تمام حکومتی وزرا تو ایک دوسرے کی نظر میں کامیاب ہو گئے لیکن غریب کسان، طلبہ اور

مزدور مہنگائی کی سونامی کے سامنے ناکام ہو گئے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ ہماری حکومت گونگی اور بہری ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے آواز اُٹھانے کی بجائے خاموش ہے۔ موجودہ حکومت بغیر کسی ہوم ورک کے اقتدار میں آ گئی۔ نئی حکومت کے آنے سے مہنگائی کی سونامی آ گئی ہے جس سے پاکستان کا ہر شہری پریشان ہے۔سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں ہر چیز مہنگی اور پاکستانی روپیہ سستا ہے۔ 2019ء میں ڈالر مزید مہنگا اور پاکستانی کرنسی کی قدر کم ہو گی۔ مدینہ جیسی ریاست بنانے کی بات کرنے والی حکومت کے ارکان نے اسمبلی میں شراب کے حوالہ سے پیش کئے گئے بِل کی بات کر کے اسلامی نظریے کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی۔ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ ایوانوں میں صرف چہرے اور حکومتیں بدل رہی ہیں لیکن سسٹم وہی پُرانا ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس میں شراب کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا آئینی ترمیمی بل مسترد کر دیا گیاتھا۔ ایم ایم اے اور حکومت کی بل کی حمایت، پی پی اور ن لیگ نے مخالفت کی، اجلاس کو ایجنڈے کے مطابق نہ چلانے پر اپوزیشن واک آؤٹ کر گئی۔حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن رمیش کمار نے آئین کے آرٹیکل 37 میں ترمیم کا نجی بل پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہوئے کہا کہ شراب اسلام، ہندومت اور مسیحی سمیت تمام مذاہب میں حرام ہے،

اس کے اجازت نامے منسوخ کئے جائیں۔ ڈپٹی سپیکر نے ایوان کی اکثریت کی مخالفت پر بل پیش کرنے سے روک دیا۔ ایم ایم اے ارکان نے اس پر احتجاج کیا۔رمیش کمار کے مسترد بل پر دوبارہ ووٹنگ کے مطالبہ کیا تو اپوزیشن نے اسے ایجنڈے اور قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔ اجلاس کی کارروائی بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…