جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پارکنسن کاسٹم سیل سے علاج ممکن ،سائنسدان

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سویڈش سائنسدانوں نے کہا کہ سٹم سیل (خلیہ ) کی مدد سے پارکنسن (اعصابی بیماری ) سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کاعلاج ممکن ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ چوہوں پ رکی گئی تحقیق سے اس بیماری کے علاج میں ایک بڑی پیش وفت ہوئی ہے ۔ اعصابی بیماری سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کا کوئی علاج نہیں لیکن دو اور دماغ کی مشق سے اس کی تشخیص ضرور کی جاسکتی ہے ۔ پار کنسن بیماری دماغ میں ان اعصابی خلیوں کی کمی کے باعث لاحق ہوتی ہے جو کہ انسانی موڈ اور حرکات کنٹرول کر تے ہیں ۔پارکنسن کا علاج ڈھونڈ نے کے لیے اسٹم سیلز خلیے کو انجکشن کی مدد سے چوہوں کے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کا خاتمہ ہو گیا ۔تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ کاانسانوں کے مطابق اس کے بعد پار کنسن (اعصابی بیماری ) سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کا خاتمہ ہو گیا ۔ تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں پر اس تحقیق کے تجربے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ اس تجربے کے لیے در کار اسٹم سیلز (خلیے ) 2017 تک ہی تیار ہو سکیں گے ۔ پارنکسن یوکے کا کہنا ہے کہ یہ اس بیماری کے خاتمے کی طرف ایک پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے تنظیم کے ڈائرکٹر ارتھر راچ کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق سے ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ پار کنسن (اعصابی بیماری ) کے علاج میں سٹم سیلز (خلیے ) کس قدر کردار ادا کر سکتے ہیں



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…