اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی نے نیب کی جانب سے گرفتاریوں اور انتقامی سیاست پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، خواجہ سعد رفیق کی گرفتاری کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں شدید گرما گرمی ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر کڑی تنقید کی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔ مسلم لیگ (ن)اور
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ احتساب اداروں کو اپوزیشن کو دبانے کیلئے بطور ہتھیار کیا جارہا ہے،نیب کالا قانون ہے جسکی مثال دنیا میں نہیں ملتی،حکومت پارلیمان کا دفاع کرنے میں ناکام ہو گئی جس سے پارلیمنٹ کی بالادستی ختم ہو گئی ہے،اپوزیشن لیڈر کا 64دن کا ریمانڈ لیا گیاقتل کے ملزم کا ریمانڈ14دن سے زیادہ نہیں ہوتا،نیب نے اگر الزامات پر ہی اپوزیشن کو گرفتار کرنا ہے تو پھر وزیر اعظم سمیت وزراء کو بھی گرفتار کیا جائے جن کیخلاف تحقیقات چل رہیں ہیں، تمام وزراء امتحان میں پاس ہو گئے مگر ملک کو فیل کر دیا ،کابینہ شاباش دینے کے بعد مسائل کو حل کرے، باتوں سے کام ملک نہیں چلے گا،ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں،اسی طرح گرفتاریاں جاری رہیں تو قومی اسمبلی کا اجلاس آڈیالہ جیل میں ہوگا،نہ حکومتی بینچ پر سارے فرشتے ہیں اور نہ اپوزیشن پر بیٹھے سارے چور ہیں ،احتساب سب کا ایک ہی ترازومیں کیا جائے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج نیب کو اپوزیشن کو دبانے کیلئے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے،حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہمار ا اس سے کوئی تعلق نہیں تو ہم جاننا چاہتے ہیں تو پھر یہ کون کروا رہا ہے کیونکہ ہم احتساب کے خلاف نہیں ہیں، احتساب ہم سے شروع کیا جائے،لیکن جب احتساب انتقام میں بدل جائے یا احتساب جمہوریت اور
اپوزیشن کو دبانے کیلئے استعمال ہوتو پھر جمہوریت بھی خطرے میں ہوتی ہے اور پارلیمان کی بالادستی بھی ، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا گیا، آج تک ان پر کوئی کیس نہیں بن سکا،شہباز شریف کا 64دن کا ریمانڈ لیا گیا، قتل کے ملزم کا ریمانڈ14دن سے زیادہ نہیں ہوتا، پھر بھی شہباز شریف پر کوئی کیس نہیں بن سکا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کو کسی حکومتی معاملے پر گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان کو کسی پرانی ٹرانزکشن پر گرفتار کیا گیا،جس کا وہ پبلک اور
پارلیمنٹ میں جواب دے چکے ہیں، کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں،اس حوالے سے کوئی ثبوت بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو اس طرح کے معاملات پارلیمنٹ کی بالادستی کے خلاف ہیں،ملک کی بدنصیبی ہے کہ اپوزیشن کو دبانے کیلئے احتساب کے ادارے استعمال ہورہے ہیں،چیئرمین نیب نے پچھلے دنوں جو اپنی تقریر کی اس میں انہوں نے ایسے ایسے الزامات پارلیمنٹیرینز اور حکومتوں پر لگائے ہیں جس کا کوئی جواز نہیں تھا،
اگر پارلیمنٹ اپنے آپ کا دفاع نہیں کرے گی تو پھر بات بہت دور تک جائے گی،ہم نے باربار کہا ہے کہ ہم احتساب سے نہیں گھبراتے، مگر انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے،چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ ریفرنس دائر ہونے تک کسی قسم کا میڈیا ٹرائل نہیں کیا جائے گا،مگر آج چیئرمین نیب اور نیب کے ڈی جیز کھل کر نام لے لے کراپوزیشن پر الزامات لگارہے ہیں، جس سے عام آدمی جس کو حقائق کا علم نہیں ہوتا،وہ شک کی نظر سے دیکھتا ہے کہ شاید یہ واقعی مجرم ہے، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ
آئین کے آرٹیکل 10اے کے مطابق شفاف ٹرائل ہر ایک کا حق ہے،عوام کے سامنے لوگوں کی پگڑیاں اچھال کر انصاف نہیں دیا جا سکتا،اگر اپوزیشن کو بغیر کسی ثبوت کے صرف الزامات پر گرفتار کرنا ہے تو ضرور کریں،مگر حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے گرفتاریاں ہونی چاہئیں، اس وقت نیب میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہیلی کاپٹر کیس موجود ہے،اگر اپوزیشن گرفتار ہو سکتا ہے تو وزیراعظم کو بھی گرفتار کرلیا جائے،اسی طرح علیم خان، پرویز خٹک،جہانگیر ترین،
علیمہ خان کو بھی گرفتار کرلیا جائے،مگر ان میں سے کسی کو بھی پوچھا تک نہیں گیا،اپوزیشن کو دبانے کیلئے میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے جو جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حق میں نہیں ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس ہاؤس کے کسٹوڈین ہیں،آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اس ایوان کا دفاع کریں، اگر فوج اور عدلیہ اپنا دفاع کرتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں،ہم کسی سے تحفظ نہیں مانگ رہے، صرف انصاف مانگ رہے ہیں تا کہ اپوزیشن کودبا کر
ان کی وفاداریاں نہ بدلی جا سکیں اور اپوزیشن کو جیل دکھا کرڈرایا نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف 200کے قریب عدالتوں میں پیشیاں بھگت چکے ہیں، مجھے پارلیمان کا کوئی ایک کیس دکھا دیں جس نے 200 یا اس سے قریب پیشیاں بھگتی ہوں،جن پر سینکڑوں ارب روپے کے الزامات نیب نے لگائے وہ آزاد گھوم رہے ہیں،انصاف سب کیلئے اور برابر ہونا چاہیے،احتساب مجھ سے شروع کریں، میں وزیراعظم تھا اور میری کابینہ سے احتساب شروع کیا جائے،میری حکومت میں
اگر کرپشن ہوئی ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں،اپوزیشن لیڈر کا 64دن کا ریمانڈ لیا گیا لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ 64دن کا ریمانڈ قاتلوں کا نہیں ہوتا،ان لوگوں کو شرم نہیں آتی ملک میں کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے،حکومت کا نیب سے کوئی تعلق نہ ہونے کا یقین کرلیتا ہوں لیکن بتایا جائے کہ پھر نیب کہاں سے کنٹرول ہورہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے وزراء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمام وزراء پاس ہو گئے ہیں، انہیں مبارکباد دیتا ہوں، کوئی فیل نہیں ہوا،مگر ملک پریشان ہے اور
ملک کو فیل کر دیا ہے،وزراء کا 20,20منٹ کا امتحان تھا جس میں سب پاس ہو گئے ہیں، اگر نیب حکومت کی نہیں سنتی تو پھر کس کی سنتی ہے،ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی ختم ہو چکی ہے،اس ایوان اور اس میں بیٹھنے والے ارکان کی کوئی عزت نہیں ہے،ہم احتساب سے نہیں گھبراتے نہ ہم بھاگنے والے ہیں،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کا نام ای سی ایل میں نہیں تھا اس کے باوجود انہیں بیرون ملک نہیں جانے دیا گیا،کوئی بتائے گا کہ کیا اس ملک میں کوئی قانون ہے،کوئی ہے جو ان سب کو پوچھے،زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں تھا مگر وزیراعظم اسے اپنے ساتھ عمرے پر لے گئے۔ شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں،حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے،ہم نے اس طرح کا احتساب پہلے بھی بھگتا ہے،مشرف دور کے مقابلے میں جو کچھ آج ہورہا ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے،مگر وہ ایک آمر کا دور تھا،اس لئے برداشت کیا مگر آج سول حکومت ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس ایوان کی بالادستی کی حفاظت کرے،احتساب سے نہیں انتقام سے، اگر ایسا چلتا رہا تو یہ معاملات مزید آگے نہیں چل سکیں گے،اس طرح ماضی میں بھی ہو چکا مگر وہ تجربات ناکام رہے۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر فواد چوہدری کو میری باتیں ناگوار گزری ہیں تو میں ان سے معذرت خواہ ہوں، انہوں نے امتحان پاس کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں احتساب کے حق میں ہوں، اگر آپ احتساب کرنا چاہتے ہیں تو ہر رکن بتائے کہ وہ سیاست میں آیا کہاں سے اور آج اس کے پاس کیاہے؟یہ بھی بتائیں کہ ارکان ٹیکس کتنا دیتے ہیں؟مجھ سے شروع کریں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت سے کام ہوتا نہیں یہ صرف الزام لگانے میں مصروف ہیں،کابینہ شاباش دینے کے بعد مسائل کو حل کرے، باتوں سے کام نہیں چلے گا، اپنے مسائل کو حل کریں، حکومتیں اپنے اسی رویے کی وجہ سے جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018اور اس سے پہلے کے ٹیکس ریٹرن دیکھ لئے جائیں، نیب آمر نے بنایا تھا، ہمارے پاس موقع تھا کہ ہم اسے ختم کر دیتے، نیب وہ کالا قانون ہے جس کی دنیا میں مثال نہیں، ہمارے خلاف جو کرنا ہے کرلیں لیکن آج کے بعد نیب کو ختم کرلیں،لیکن ہم پر ضرور نیب کے قوانین لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تک نواز شریف پر کرپشن کا الزام نہیں لگ سکا،کیا آج پارلیمنٹ سپریم ہے،جس ماحول میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں لگ رہا وہاں کیا ہو گا۔پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے بھی خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز خواجہ سعد رفیق کی گرفتاری کے فوری بعد پروڈکشن آرڈر جاری ہونے چاہییں تھے ،جو رکن منتخب ہوتا ہے اسکو اپنی عوام کی نمائندگی سے نہیں روکا جا سکتا، سعد رفیق کے فوری پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں تاکہ وہ اس ایوان کی کارروائی کا حصہ بن سکیں۔ اس وقت روش چل رہی ہے کہ پہلے فرنٹ کی سیٹوں پر بیٹھنے والوں کو گرفتار کیا گیا اب پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے،اگر ایسے ہی گرفتاریاں ہوتی رہیں تو پھر اجلاس کہیں اڈیالہ جیل میں نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سے بھی سوالات کئے جا رہے ہیں، ان سے اس وقت کے معاملات پر سولات ہو رہے ہیں جب وہ ایک سال کے تھے۔ ان کا مقصد صرف ایک ہے کہ اپوزیشن کو گندہ کیا جائے،ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ اپوزشین پر اتنا کچرا پھینکوں کہ کچھ نہ کچھ تو ان کے دامن پر لگ ہی جائے گا،لگتا ایسا ہے کہ ملک میں صرف ایک پارٹی کی حکمرانی رکھنا چاہتے ہیں،صرف ڈکٹیٹر کے زمانے میں ایسا ہوتا ہے کہ پوری اپوزیشن جیلوں میں ہو،جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا،ملک میں آج سرمایہ کار ڈر رہے ہیں انکے ساتھ بھی سیاستدانوں والا سلوک ہو رہا ہے، یہ کہنا کہ نیب سے ہمارا کوئی تعلق نہیں کافی نہیں ہے،ہم ماضی بھول گئے ہیں کیا،سیاستدانوں کا میڈیا ٹرائل فوری بند کیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میں خود ابھی ملزم ہوں اسلئے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ،شاہد خاقان عباسی اور نوید قمر کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں ،فوری طور پر سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بحث کہاں سے شروع ہوئی کہاں چلی گئی، اس پر بات نہیں کروں گا، احتساب پر کسی کو اعتراض نہیں اور نہ ہونا چاہیے، احتساب کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، انصاف پر بڑی باتیں کی گئی ہیں، انصاف یہ ہے کہ ایک جیسے کیسز ہوں تو ان کا ایک جیسا احتساب ہو، میں بھی کہتا ہوں نیب کو ایک خود مختار ادارہ ہونا چاہیے، یہاں بحث صرف ایک دوسرے کو چور ثابت کر کے خود کو باوقار ثابت کیا جاتا ہے، ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے، ہم ایک دوسرے کے خلاف باتیں کر چکے ہیں جو آج ہمارے خلاف کر چکے ہیں، نہ حکومتی بینچ پر سارے فرشتے ہیں اور نہ اپوزیشن پر بیٹھے سارے چور ہیں، ہم سب انسان ہیں، نیب ایک خود مختار ادارہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جو نیب مشرف نے بنائی تھی اس کی نیت کرپشن ختم کرنا نہیں تھی۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آپ حکومت میں آئے ہیں آپ سب کو ساتھ لے کر چلیں، جس ٹہنی پر بیٹھے ہیں کہیں اس پر آری تو نہیں چلا رہے،کرپشن تب ختم ہو گی جب پارلیمنٹ یکسو ہو گی، ایک گالی دیں گے تو آپ کو دس گالیاں آئیں گی۔



















































