اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اقوام متحدہ نے یمن کے متحارب فریقین میں جنگ بندی کی دستاویز پیش کردی

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

صنعاء(این این آئی)یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھ نے نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن میں جاری جنگ روکنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کردی ہیں۔ ان تجاویز میں دونوں فریقوں پر ایک دوسرے پر حملے روکنے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ

یمن کا ساحلی شہر الحدیدہ کشیدگی کا مرکز ہے اور وہاں پر جاری لڑائی پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے یمن میں انسانی اور سیاسی صورت حال کا بھی احوال بیان کیا۔ گریویتھ نے توقع ظاہر کی کہ یمن میں متحارب فریقین ان کی پیش کردہ امن تجاویز کو قبول کریں اورجنگ بندی کی مساعی کا مثبت جواب دیں گے۔ اقوام متحدہ کے مندوب نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کے جنگ بندی کی طرف واپس آنے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔یو این مندوب کا کہنا تھا کہ یمن کے لیے آنے والے ہفتے بہت اہم ہیں۔ سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں رواں ماہ کے آخر پر ہونے والے مشاورتی اجلاس میں یمن میں جنگ بندی کے حوالے سے اہم پیش رفت ممکن ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مارک لوکوک نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یمن اس وقت بدترین غذائی بحران سے گزر رہا ہے۔ خوراک کی قلت کے اعتبار سے یمن دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اگر جنگ سے متاثرہ علاقوں میں فوری خوراک مہیا نہیں کی جاتی تو اس کے نتیجے میں یمن ایک نئے انسانی المیے سے دوچار ہوسکتا ہے۔عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یمنی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 235 فی صد تک کم ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں 80 لاکھ خاندان فوری امداد کے منتظر ہیں۔ عالمی ادارے کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ عالمی امدادی اداروں

کی طرف سے دی جانے والی امداد سعودی عرب اور اومان کے راستے یمن پہنچ رہی ہے۔ ڈیوڈ سیلی کا کہنا تھا کہ 1 کروڑ 20 لاکھ متاثرین میں سے 80 لاکھ افراد تک امدادی سامان پہنچایا گیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن میں شہری امور کی مندوبہ رشا جرھم نے کہا کہ یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے کئی طرح کے مسائل پیدا کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی بچھائی گئی بارود سرنگیں شہریوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں کیونکہ

اب تک سیکڑوں افراد ان بارودی سرنگیں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے یمن میں حوثیوں کو بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے ہر دوسرا شہری تشدد کا شکار ہے۔ بچوں کو جنگ میں? جھونکا جا رہا ہے، ان پر تشدد معمول بن گیا ہے اور اب بچیوں کو بھی اغواء کیاجا رہا ہے۔اس موقع پر کویت کے سلامتی کونسل میں مندوب منصور العتیبی نے کہا کہ حوثی باغی ملک میں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…