لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) گزشتہ روزچوہدری سرور کے خلاف پرویز الہیٰ کی جہانگیر ترین سے ملاقات کی خفیہ ویڈیو لیک ہوئی جس کے بعد پی ٹی آئی میں گروہ بندی کی افواہیں سچ ثابت ہونے لگی ہیں ۔اس معاملے پر تجزیہ کاروں کی مختلف رائے سامنے آ رہی ہے ۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ پرویز الٰہی کی جو ویڈیو جاری ہوئی یہ
ان کی میڈیا کور یج کرنے والے ساتھی چودھری اقبال نے دوستوں کو بھیجی،اس میں وہ ویڈیو کی آواز بندکرنا بھول گئے اورپھر جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے ۔ پارٹیوں میں بڑے بڑے اختلافات ہوتے ہیں ، تحریک انصاف کے ساتھ تو بہت سی پارٹیاں اور لوگ ہیں،جب نوازشریف وزیر اعظم تھے تو مجبوری کے تحت غلام حیدر وائیں کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانا پڑا،سارے فیصلے شہبازشریف کرتے تھے ،وزیر اعلیٰ پنجاب کے پیچھے عمران خان کھڑے ہیں ، باقی لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔تجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا کوئی اتحادی حکومت اکیلی نہیں چل سکتی،چودھری برادران ماہر سیاستدان ہیں،انہوں نے پہلے جہانگیر ترین کو بلاکرمسئلہ بتایا،اگر جہانگیر ترین ان کی بات آگے نہیں کرتے تو پھر وہ خود عمران خان سے بات کرینگے ،وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نہیں عمران خان ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے فرخ حبیب نے کہا پنجاب میں اختلافات والی کوئی بات نہیں،عثمان بزدار کو ہمارے ایم پی ایز نے وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب کیا اورصوبے کے تمام اختیارات ان کے پاس ہیں، طارق بشیر چیمہ ہمارے اتحادی ہیں اور ان کے حلقے میں تحریک انصاف کے لوگ بھی موجود ہیں۔واضح رہے کہ اس ویڈیو کے لیک ہونے کے بعد پرویز الٰہی نے ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے اس سارے معاملے پر وضاحت پیش کی۔



















































