جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

چین کا چاند سے گیس برآمد کرنیکا منصوبہ

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) چین اپنی معاشی سرگرمیوں کے ذریعے کرہ ارض پر توغالب آہی چکا ہے تاہم اب وہ چاند پر بھی اپنا قبضہ جمانے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ دراصل چینی چاند سے ہیلیئم گیس درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور اس کیلئے سائنسدان ممکنہ طریقوں پر غور کررہے ہیں۔ یوں تو زمین پر بھی ہیلیئم گیس موجود ہے تاہم چاند کے مقابلے میں یہاں اس گیس کی مقدار بے حد کم ہے۔ ماہرین ارضیات کا اندازہ ہے کہ کرہ ارض میں کل پندرہ ٹن کے قریب ہیلیئم گیس موجود ہے جبکہ چاند پر یہ مقدار پچاس لاکھ ٹن تک ہوسکتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ گیس نیوکلیئر فیوڑن کیلئے بہترین ثابت ہوسکتی ہے تاہم اس کی مقدار کو حاصل کرنے پر آنے والے اخراجات کسی بھی ملک کو آسانی سے دیوالیہ کرسکتے ہیں۔ ہیلیئم گیس کی گرام پیداوار پر آنے والے اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ یہ 1000ڈالر میں فروخت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی فی میٹرک ٹن پیداوار پر 1ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا۔ یہی نہیں بلکہ چاند پر پائی جانے والی ہیلیئم زمین کی ہیلیئم سے ننانوے فیصد مختلف ہے۔ اس کے ایٹم میں دو پروٹون اور ایک نیوٹرون ہوتا ہے جبکہ زمین پر پائی جانے والی ہیلیئم کے ایٹم کی ساخت اس سے بے حد مختلف ہوتی ہے۔ چاند پر موجود ہیلیئم نیوکلیئر فیوڑن کیلئے زیادہ بہتر ہوسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس منصوبے پر غور کررہے ہیں کہ کسی طرح وہ چاند پر موجود ہیلیئم کو زمین پر لائیں۔ چاند پر موجود ہیلیئم سولر ونڈ کی وجہ سے چاند کی سطح کے اندر چھوٹے چھوٹے ذخائر کی صورت میں ہے۔ اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے خواہشمند افراد زیادہ جلدی مت کریں کیونکہ اس منصوبہ پر فوری طورپر کام ممکن نہیں ہے۔اس منصوبے پر کام شروع کرنے سے پہلے چین کو اس معاہدے پر بھی غور کرناہوگا جس پر وہ پہلے سے ہی دستخط کرچکا ہے اور جو کہ اسے اس منصوبے پر عمل درآمد سے روک سکتے ہیں۔ اس معاہدے کی رو سے دنیا بھر کے بیشتر ممالک کے بیچ یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ کرہ ارض سے باہر موجود تمام اجسام بشمول چاند و سورج کے کسی بھی قسم کا تحقیقاتی کام اس نیت سے ہونا چاہئے کہ اس سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچے۔ کوئی بھی ملک زمین سے باہر کسی بھی قسم کا تحقیقی کام خالصتاًاپنے فائدے کیلئے نہیں کرسکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…