جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

ہوا سے پانی بنانے والے جوڑے نے 15کروڑ کا انعام جیت لیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

کیلیفورنیا(مانیٹرنگ ڈیسک) انسان اگر چاہے تو بلند حوصلے اور عزم و ہمت کی بدولت کچھ بھی کر سکتا ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال امریکی جوڑا ہے جس نے ہوا کے ذریعے پانی بنانے کا طریقہ ایجاد کر کے 15کروڑ روپے سے زائد کا انعام جیت لیا۔ ڈیوڈ ہرٹز کو جب یہ خیال سوجھا تو انہوں نے تجرباتی بنیادوں پر اپنے دفتر کی چھت پر خود سے تیار کردہ آلہ نصب کیا اور ان کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا۔

جب انہیں اس کی بدولت تازہ پانی ملنا شروع ہو گیا۔ جلد ہی انہوں نے بیوی لورا ڈوس کے ساتھ مل کر کچھ بڑا کرنے کی ٹھانی اور اس حد تک کامیابی حاصل کی کہ انہیں رواں ہفتے پانی بڑی مقدار میں پیدا کرنے پر 15کروڑ روپے سے زائد کا انعام دیا گیا۔ انہوں نے بحری جہازوں کے کنٹینر، لکڑی کے تختوں اور کچرے کے ڈبے کی نذر چند ناکارہ چیزوں کی مدد سے ایک دن میں 2ہزار لیٹر پانی کی پیداوار کی جو انہیں دو روپے فی لیٹر کا پڑا۔ ایکس پرائز نامی مقابلے کا انعقاد چند تجارتی و صنعتی ماہرین کرتے ہیں جس کے تحت دنیا کو محفوظ اور بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والوں کو اب تک 140ملین ڈالر کی انعامی رقم دی جا چکی ہے۔ اس سلسلے میں 10ملین ڈالر کا پہلا ایوارڈ 2004 میں مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن کو دیا گیا تھا۔ ہرٹز کو چند سال قبل پتہ چلا کہ جو کوئی بھی سستا پانی بنانے کا جدید طریقہ ایجاد کرے گا، اسے یہ انعام دیا جائے گا اور اسی کے بعد سے انہوں نے اس تجربے پر کام کرنا شروع کر دیا اور کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ ہرٹز کی تیار کردہ مشین(اسکائی واٹر300) اس وقت روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے 500لیٹر سے زائد پانی پیدا کرتی ہے جسے وہ علاقے میں موجود بے گھر لوگوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ کیلیفورنیا سے تعقل رکھنے والے اس جوڑے نے ایک سسٹم تیار کیا جس کے تحت لکڑی کے تختوں کو گرمی دے کر حرارت اور نمی پیدا کی جاتی ہے اور ان سے پیدا ہونے والا پانی شپنگ کنٹینرز میں جمع کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف کنیٹی کٹ کے پروفیسر اور پانی کے نظام پر ماہر میتھیو اسٹبر نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی نصب کرنا بہت آسان ہے۔ انعام دینے والے پینل میں بحیثیت جج موجود پروفیسر نے کہا کہ پانی بنانے کی یہ مشین پیچیدہ نظام کے بجائے سادہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے اسے آفت زدہ علاقوں کو پانی پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس مقابلے کا حصہ بننے کے لیے ہرٹز اور ان کی بیوی کو

شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بڑے پیمانے پر فنڈنگ کے حامل امیدواروں کے مقابلے کے لیے اپنا مکان گروی رکھنا پڑا تاکہ وہ اس منصوبے کو عملی جامع پہنا سکیں۔ مقابلے میں 27ملکوں کی 98ٹیموں نے شرکت کی اور ابتدائی طور پر انہیں بتایا گیا کہ آپ کو فائنل پانچ ٹیموں میں شامل نہیں کیا گیا تاہم ایک ٹیم کی جانب سے مقابلے سے دستبرداری کے بعد یہ فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے اور مقابلہ جیت لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…