ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

جمال خاشقجی کے پاس سعودی شاہی خاندان کی کرپشن، انکے دہشت گردوں کیساتھ تعلق اور اندرونی سیاست کے بارے میں کیا کچھ تھا؟خاسجی کے دوست کا انٹرویو، سنسنی خیز انکشافات

datetime 16  اکتوبر‬‮  2018 |

برلن(آن لائن)جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعوی کیا ہے کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔جرمن ویب سائٹ ویلٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جمال خاشقجی کے دوست عبد العظیم حسن الدفراوی کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے پاس سعودی شاہی خاندان کی کرپشن، ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلق اور اندرونی سیاست کے بارے میں اہم معلومات ہوسکتی تھیں۔

عبد العظیم حسن الدفراوی کا کہنا تھا کہ خاشقجی کی صحافت سعودی حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں تھی، لیکن ان کے خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات تھے جس کی وجہ سے انہیں بعض اہم معاملات سے متعلق علم تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ مارے جاتے ہیں تو میرے لیے حیران کن ہوگا کہ انہیں ان کی صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے مارا گیا۔خاشقجی کے دوست کا کہنا تھا کہ وہ بہت کچھ جانتے تھے، اور سعودی عرب کے مسائل سے آگاہ تھے، اور وہ ان افراد میں شامل تھے جو بہت کچھ جانتے ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ خاشقجی کو کیا کیا معلومات حاصل ہوسکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں سعودی شاہی خاندان کی کرپشن، ان کے دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ تعلقات اور شاہی خاندان کے بعض غلط اقدامات کا علم تھا۔عبد العظیم حسن الدفراوی نے مزید بتایا کہ ان کی خاشقجی سے سب سے پہلی ملاقات 2003 میں ہوئی اور وہ تب سے ہی ان کے دوست ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ خاشقجی کی القاعدہ کے بانی رہنما اسامہ بن لادن سے 1990 میں ملاقات ہوئی تھی اور اس دوران انہوں نے القاعدہ لیڈر سے دہشت گرد سرگرمیاں چھوڑنے کی درخواست کی تھی۔خیال رہے کہ امریکا میں مقیم سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ 2 ہفتے سے لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ انہیں ترکی میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔سعودی عرب سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے جمال خاشقجی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھے جبکہ ادارے نے بھی ان کی گمشدگی کی تصدیق کی تھی۔صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…