ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان سے ان 2 چیزوں کے خواہش مند ہیں ،امریکہ پھر اپنے مطالبات سامنے لے آیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2018 |

واشنگٹن ( آن لائن )امریکا نے اپنے مطالبات کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان سے 2 چیزوں کا خواہش مند ہے جس کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کو افغانستان میں ان کے گروپ سے کاٹ دیا جائے اور انہیں امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے مجبور کیا جائے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے کمانڈر جنرل جوزف ایل ووٹل نے پینٹاگون میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ واشنگٹن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان دو نکات کی وضاحت کی۔

جنرل جوزف بحیثیت سینٹکام کے سربراہ کے افغانستان میں امریکی سربراہی میں جاری جنگ کے براہ راست ذمہ دار ہیں جس میں پاکستان سے مبینہ سرحدی حملوں کو روکنا بھی شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پاکستان میں موجود طالبان کی قیادت کی جانب سے میدان میں موجود ان کے جنگجوؤں کو ہدایات، احکامات اور دیگر چیزیں نہیں آرہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ ‘انہیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہاں بظاہر یا خفیہ طور پر کوئی سرگرمی نہیں ہورہی ہے اور یہ جنگجو طبی امداد یا دیگر چیزوں کے لیے پاکستان نہیں آسکیں۔اپنے مطالبات کو دہراتے ہوئے امریکی جنرل نے کہا کہ ‘پاکستان کو طالبان قیادت کو مذاکرات کی ٹیبل پر آنے کے لیے طالبان کو مجبور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ایک سوال پر کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان اثر رکھتا یا ہے نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ یہ کرسکتے ہیں، وہ انہیں ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے افغانستان کے حوالے سے دےئے گئے بیان پر جنرل جوزف کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اور ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان نے اپنے ملک سے دہشت گرد تنظیموں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے بالخصوص افغان سرحد سے ملحق علاقوں سمیت مخصوص علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں۔انہوں نے افغانستان کے اندر طالبان کی جانب سے تاحال اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی اہلیت کے حوالے سے امریکی جائزے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ پاکستان میں اب بھی طالبان کی موجودگی ہے اور پاکستان کو انہیں (طالبان) کو پیچھے دھکیلنے کے لیے کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

جنرل جوزف نے 2 اکتوبر کو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیکل پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیرخارجہ نے افغانستان میں ان کی سربراہی میں امن اور مصالحتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے اپنے ملک کے عزم کو واضح کردیا ہے۔امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے مزید اعتراف کیا کہ افغانستان میں امن و استحکام ان کے اپنے ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج پاکستانی فوجی قیادت کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور ان کے ساتھ ان معاملات کے علاوہ دیگر امور پر بھی بات کرتی ہے۔سینٹکام سربراہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے اپنی توقعات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں ان کو اس معاملے پر مصروف رکھنے کی ضرورت ہے اور ہمیں افغانستان میں کشیدگی کو کم کرنے میں ان کی مدد کرنے کی ضروت ہے۔جنرل جوزف نے اہنے بیان میں دو چیزوں، طالبان قیادت کو ان کے جنگجووں سے رابطے ختم کرنا اور انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنے کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ دو چیزیں ہیں جس پر ہم پاکستان کو مسلسل زور دے رہے ہیں لیکن ہمیں اعتراف ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنے ملک میں بہت کچھ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اب بھی بہت کچھ کرنا ہے اور ان مخصوص علاقوں میں ہمیں ان کے قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…