اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

ویلڈ ن چیف جسٹس صاحب ،سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین منصوبہ سے متعلق ایسا حکم جاری کردیا کہ آپ کی بھی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

datetime 3  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب میگا پراجیکٹس کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ لاہور میٹرو ٹرین پراجیکٹ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اورنج ٹرین سمیت بڑے منصوبوں کی تکمیل میں اگرکوئی الجھنیں ہیں تو انہیں مل بیٹھ کر حل کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو وقت ہم نے دیا تھا اسے مزید نہیں بڑھائیں گے۔

پرائیویٹ کمپنی کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)اور قومی احتساب بیورو (نیب)کی وجہ سے خوف کی فضا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی پکڑ سے بچانے کے لیے ہم آپ کو تحفظ دے دیتے ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو کام ہوچکا ہم اسے واپس نہیں کر سکتے، لاہور کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، لوگ موٹرسائیکل پر گھر نہیں جاسکتے، بچے بسوں پرسکول نہیں جا سکتے۔ عدالت نے کہا کہ مقررہ وقت کے اندر اورنج ٹرین منصوبہ کی تکمیل ضروری ہے۔اس پر پرائیویٹ کمپنی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا ہم نے نیک نیتی کے ساتھ سپریم کورٹ میں پراجیکٹ کی تکمیل کا بیان حلفی دیا تھا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ فریقین مل بیٹھ کر بات کریں اور عدالت کو آگاہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کوئی مشکل آتی ہے تو عدالت حاضر ہے، رات لگے دن لگے کام مکمل کریں۔نعیم بخاری نے کہا کہ تعمیراتی کمپنی نے جو کام کیا اس کی ادائیگیاں کی جائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیکیدار کہہ رہے تھے کہ ہر صورت بروقت کام مکمل کریں گے لیکن آج نئے ٹیکنیکل مسائل سامنے آگئے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں واضح کر رہا ہوں اورنج لائن کی تکمیل کے وقت میں توسیع نہیں ہو گی، تمام متعلقہ افسران ایک ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں، افسران سے مسئلہ حل نہیں ہوتا تو تحریری طور پر آگاہ کریں، تحریری موقف سن کر عدالت حکم جاری کرے گی۔

انچارج پراجیکٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت کچھ وقت دے ہم مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پراجیکٹ افسران کو بظاہر نیب کا خدشہ ہے، ہم تمام اقدامات کو عدالتی کور فراہم کر دیں گے۔پراجیکٹ انچارج نے کہا کہ عدالتی تعاون ملے تو ایک گھنٹے میں مسئلہ حل ہو جائے گا۔سماعت کے دوران نعیم بخاری نے کہا کہ ہم ایک نئے ڈیم کی تجویز دینا چاہتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ایک کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے، جس میں ہم چار جج صاحبان بھی شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا عدالت کا دروازہ کھلا ہے، ڈیم کے معاملات کمرہ عدالت میں زیر بحث نہیں لاتے تاہم ڈیم کی شروعات ہم نے کر دینی ہے۔نعیم بخاری نے کہا کہ ہماری کمپنی ڈیم 25 فیصد کم نرخ پر بنائے گی۔گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اورنج ٹرین سمیت میگا پراجیکٹ جلدی مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ ان پراجیکٹس پر اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں اور اسے اب اس طرح نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ ان پراجیکٹس پر مزید تاخیرکی صورت میں ان کی لاگت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…