منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

فیس بک بانی کا اپنا اکاؤنٹ ہیکرز سے بچ نہیں سکا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعے کو فیس بک کی جانب سے اعتراف کیا گیا تھا کہ اس سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے 5 کروڑ صارفین اکاﺅنٹ ہیک ہوئے جبکہ مزید 4 کروڑ افراد کے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اب فیس بک کے لیے زیادہ شرمندگی کی بات یہ بنی ہے کہ اس کے بانی مارک زکربرگ سمیت کمپنی کے 2 اعلیٰ ترین عہدیداران بھی ان متاثرہ افراد میں شامل ہیں۔

جن کے اکاﺅنٹ ہیک ہوئے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز کو فیس بک کے بانی مارک زکربرگ،سی او او شیرل سینڈبرگ اور یورپ کے لیے نائب صدر نکولا مینڈیلسن کے اکاﺅنٹس تک بھی رسائی حاصل ہوگئی تھی۔ ابھی تک یہی واضح نہیں کہ یہ سائبر حملہ کس حد تک سنگین تھا، یعنی صارفین کے ذاتی ڈیٹا پر ہیکرز کو کس حد تک رسائی حاصل ہوگئی تاہم فیس بک کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ہی سیکیورٹی خامی پر قابو پالیا گیا تھا۔ جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کو صارفین کے نجی پیغامات یا کسی اکاﺅنٹ سے پوسٹ کرنے کی طاقت مل گئی تھی، مگر ایسی علامات نہیں ملیں جس سے عندیہ ملے کہ انہوں نے ایسا کیا۔ مارک زکربرگ کا کہنا تھا ‘ ہم اب تک نہیں جانتے کہ متاثرہ اکاﺅنٹس میں سے کسی کا غلط استعمال ہوا یا نہیں’۔ اس ہیکنگ حملے پر پرائیویسی تحفظات تو صارفین کی جانب سے سامنے آئے مگر فیس بک کے اعلیٰ عہدیداران کو ہدف بنانا اس کمپنی کے لیے مشکلات مزید بڑھانے کا باعث بنا۔ اگر ہیکرز کو فیس بک یا اس کے عہدیداران کی حساس معلومات تک رسائی مل گئی تو یہ کمپنی کے کافی تباہ کن ثابت ہوگا۔ فیس بک کے مطابق اس سائبر حملے میں اس کا اندرونی نطام متاثر نہیں ہوا مگر یہ واضح نہیں کیا کہ مارک زکربرگ یا سینڈبرگ کے اکاﺅنٹس سے کس قسم کی معلومات لیک ہوسکتی ہیں یا کونسی سروسز ان سے کنکٹ ہیں۔ دوسری جانب فیس بک صارفین کے اکاﺅنٹس ہیکنگ کے حوالے سے فیس بک کے خلاف مقدمہ بھی دائر کردیا گیا ہے۔ کیلیفورنیا اور ورجینیا سے تعلق رکھنے والے صارفین نے فیس بک کے خلاف مقدمات دائر کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…