اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

راؤ انوار پھر منظر عام پر آگئے،عاشورہ کے بعد کیا کام کرنے کا اعلان کردیا؟بڑے بڑوں کی نیندیں اڑ گئیں

datetime 18  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(آن لائن)نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار نے عاشورہ کے بعد اہم پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا ہے ۔نقیب قتل کیس کی سماعت کے بعد کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں راؤ انوار نے کہا کہ ‘5 اعلیٰ افسران بھی جے آئی ٹی میں تفتیش صحیح نہیں کر سکے، حتیٰ کہ جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر تک غلط درج کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میری پوسٹنگ لازمی ہوگی، مجھ پر صرف الزامات ہیں’۔یاد رہے کہ رواں برس 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ایک نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔بعدازاں 27 سالہ نوجوان نقیب محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔جس کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور سابق وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کو انکوائری کا حکم دیا۔نقیب اللہ کے والد خان محمد کی جانب سے درج کروائے گئے واقعے کے مقدمے میں راؤ انوار کو نامزد کیا گیا تھا۔بعدازاں پولیس کے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کرکے راؤ انوار کے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا اور نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دے کر پولیس افسر کی گرفتاری کی سفارش کی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر از خود نوٹس بھی لیا گیا تھا۔ملزم راؤ انوار کچھ عرصے تک روپوش رہے تاہم 21 مارچ کو وہ اچانک سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے جہاں عدالت نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔بعدازاں ضمانت ملنے کے بعد راؤ انوار کو 21 جولائی کو رہا کردیا گیا تھا، تاہم نقیب اللہ قتل کیس فی الوقت تعطل کا شکار ہے اور اس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…