جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

فرانس میں حلال ٹیکس عائد کرنے کی تیاریاں، ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کس مقصد کیلئے خرچ کی جائے گی؟ حیرت انگیز قد م اُٹھالیاگیا

datetime 15  ستمبر‬‮  2018 |

پیرس (این این آئی) تیونس کے سابق وزیرِ اعظم کے بھتیجے حکیم القروی نے فرانسیسی حکومت کو حلال ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے اگر فرانس کے صدر امانوئل میکخواں نے نئی رپورٹ تسلیم کر لی تو ملک میں ایک نئے ٹیکس کا نفاذ کر دیا جائے گا جسے حلال ٹیکس کا نام دیا گیا ہے۔

اس کا مقصد انتہاپسندی سے نمٹنا اور یورپ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی کے لیے ایک نئی تنظیم قائم کرنا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پیرس کے ایک معتبر تھنک ٹینک مویتیں انتی تیوت کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حلال مصنوعات، حج اور عطیات پر ٹیکس عائد کر دیا جائے۔رپورٹ کے مصنف حکیم القروی ہیں جو تیونس کے سابق وزیرِ اعظم کے بھتیجے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکس ریاست نہیں بلکہ مسلمان خود اکٹھاکریں گے اور اسے مسلمانوں ہی پر خرچ کیا جائے گا۔اس رپورٹ کا نام اسلامسٹ فیکٹری ہے، اور یہ اس وقت صدر میکخواں کے زیرِ غور ہے جو اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔القروی نے کہاکہ حلال ٹیکس یہ نئی مسلم تنظیم وصول کرے گی اور اس کی بنیاد یہودیوں کے ‘کوشر ٹیکس’ پر رکھی جائے گی جو فرانسیسی یہودی اپنی خوراک پر دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ اے ایم آئی ایف ارکان کے آبائی ملکوں سے خودمختار ہو گی۔ یہ تنظیم اسلام سے متعلق چیزوں کے استعمال پر ایک چھوٹا سا ٹیکس وصول کرے گی، اور اس سے حاصل کردہ رقم مذہبی امور پر خرچ کی جائے گی۔  تیونس کے سابق وزیرِ اعظم کے بھتیجے حکیم القروی نے فرانسیسی حکومت کو حلال ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے اگر فرانس کے صدر امانوئل میکخواں نے نئی رپورٹ تسلیم کر لی تو ملک میں ایک نئے ٹیکس کا نفاذ کر دیا جائے گا جسے حلال ٹیکس کا نام دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…