ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

قطر دہشت گردی کے معاونین کی جنت ہے ،اماراتی سفیر

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا میں متعیّن متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے الجزیرہ ٹیلی ویڑن چینل کو خطے میں انتہا پسندوں کا صوت المکبر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دوحہ امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گردی کے مالی معاون قرار دیے گئے افراد کی محفوظ جنت ہے۔انھوں نے یہ باتیں امریکی اخبار سے کیں اورکہاکہ متحدہ عرب امارات یمن میں ایران کے حمایت یافتہ

حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف لڑرہا ہے جبکہ قطر ایران کو مختلف شعبوں میں مدد کی پیش کش کررہا ہے۔انھوں نے کہاکہ قطر نے عراق میں اغوا کیے گئے شاہی خاندان کے افراد کی بازیابی کے لیے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب اور دوسرے انتہا پسندوں کو براہ راست کروڑوں ڈالرز ادا کیے تھے۔یمن میں قطر کے خیراتی ادارے عید چیرٹی نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے رنگ لیڈر عبدالوہاب الحمیقانی کو لاکھوں ڈالرز کی رقم ادا کی تھی۔یہ صاحب اس سے پہلے قطر کی وزارتِ مذہبی امور میں بھی کام کرتے رہے تھے۔انھوں نے قطر سے نشریات پیش کرنے والے قطر کے ملکیتی الجزیرہ ٹیلی ویڑن نیٹ ورک کے بارے میں کہا کہ یہ خطے میں انتہا پسندوں کا صوت المکبر ہے۔قطر نے خود یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اسلامی انتہا پسندی سے استفادہ کرنے والا ملک ہے۔یوسف العتیبہ نے یمن میں امریکا اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سے اس ملک میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور القاعدہ کی موجودگی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ صرف تین سال قبل جزیرہ نما عرب میں القاعدہ یمن میں ہوائی گھوڑے پر سوار تھی اور اس نے ملک کے ایک تہائی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے جنگجو یمنی شہریوں کو دہشت زدہ کررہے تھے اور امریکا اور دوسرے بین الاقوامی اہداف کو حملوں میں نشانہ بنانے کی سازشیں کررہے تھے لیکن آج القاعدہ کی یہ شاخ 2012ء کے بعد کم زور ترین سطح پر چلی گئی ہے۔اماراتی سفیر کا کہنا تھا کہ اس وقت یمن میں سب سے بڑا خطرہ ایران اور حوثی باغی ہیں جبکہ وہاں جاری جنگ کا خاتمہ عرب اتحاد کی اولین ترجیح ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…