جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

قطر دہشت گردی کے معاونین کی جنت ہے ،اماراتی سفیر

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا میں متعیّن متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے الجزیرہ ٹیلی ویڑن چینل کو خطے میں انتہا پسندوں کا صوت المکبر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دوحہ امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گردی کے مالی معاون قرار دیے گئے افراد کی محفوظ جنت ہے۔انھوں نے یہ باتیں امریکی اخبار سے کیں اورکہاکہ متحدہ عرب امارات یمن میں ایران کے حمایت یافتہ

حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف لڑرہا ہے جبکہ قطر ایران کو مختلف شعبوں میں مدد کی پیش کش کررہا ہے۔انھوں نے کہاکہ قطر نے عراق میں اغوا کیے گئے شاہی خاندان کے افراد کی بازیابی کے لیے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب اور دوسرے انتہا پسندوں کو براہ راست کروڑوں ڈالرز ادا کیے تھے۔یمن میں قطر کے خیراتی ادارے عید چیرٹی نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے رنگ لیڈر عبدالوہاب الحمیقانی کو لاکھوں ڈالرز کی رقم ادا کی تھی۔یہ صاحب اس سے پہلے قطر کی وزارتِ مذہبی امور میں بھی کام کرتے رہے تھے۔انھوں نے قطر سے نشریات پیش کرنے والے قطر کے ملکیتی الجزیرہ ٹیلی ویڑن نیٹ ورک کے بارے میں کہا کہ یہ خطے میں انتہا پسندوں کا صوت المکبر ہے۔قطر نے خود یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اسلامی انتہا پسندی سے استفادہ کرنے والا ملک ہے۔یوسف العتیبہ نے یمن میں امریکا اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سے اس ملک میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور القاعدہ کی موجودگی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ صرف تین سال قبل جزیرہ نما عرب میں القاعدہ یمن میں ہوائی گھوڑے پر سوار تھی اور اس نے ملک کے ایک تہائی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے جنگجو یمنی شہریوں کو دہشت زدہ کررہے تھے اور امریکا اور دوسرے بین الاقوامی اہداف کو حملوں میں نشانہ بنانے کی سازشیں کررہے تھے لیکن آج القاعدہ کی یہ شاخ 2012ء کے بعد کم زور ترین سطح پر چلی گئی ہے۔اماراتی سفیر کا کہنا تھا کہ اس وقت یمن میں سب سے بڑا خطرہ ایران اور حوثی باغی ہیں جبکہ وہاں جاری جنگ کا خاتمہ عرب اتحاد کی اولین ترجیح ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…