جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی سیاست ومعیشت کا اہم بازار سلطانی غیر یقینی صورت حال سے دوچار

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایرا ن پر امریکا کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ ، ملکی کرنسی ریال کی قدر میں حالیہ مہینوں کے دوران میں نمایاں کمی اور بے روزگاری ، افراطِ زر اور پست معیارِ زندگی کے خلاف حالیہ ملک گیر مظاہروں کے بعد تہران کا تاریخی بازارِ سلطانی بھی کساد بازاری کا شکار ہوچکا ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق بازارِ سلطانی میں کاروبار کرنے والے ایرانی تاجر اپنے ملک کی داخلی

سیاست کو ابتر معاشی مسائل کا براہ راست ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ وہ سرعام حکومت کو کوسنے دیتے ہیں۔ان کے ہاں گاہکوں کا وہ رش نہیں جو کبھی ہوتا تھا اورکھوے سے کھوا چھلتا تھا۔بازارِ سلطانی صدیوں سے ایران کی اقتصادی اور سیاسی زندگی دونوں کا دھڑکتا دل رہا ہے لیکن اب ایرانی شہری خریداری کے لیے تہران کے شمال میں واقع مغربی طرز کے میگامال کا رْخ کررہے ہیں۔اس بازار میں کاروبار کرنے والے والے تاجروں اور وہاں مقیم خاندانوں نے ایران کے سابق شاہ رضا پہلوی کی حکومت کی مخالفت کی تھی اور 1979ء میں ان کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ان کی جگہ پھر اہلِ تشیع کی مذہبی حکومت اور منتخب حکام نے لے لی تھی۔جون میں بازارِ سلطانی میں کئی روز تک ہزاروں مظاہرین نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور ریال کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان مظاہرین نے اپنے نعروں کا رْخ ایرانی قیادت کی طرف بھی موڑ دیا تھا اور انھوں نے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں نظام کے خلاف سخت نعرے بازی کی تھی۔اس وقت ایرانی کرنسی کی قدر مزید گر چکی ہے۔ایک ڈالر ڈیڑھ لاکھ ریال کا ہوچکا ہے۔بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ نومبر میں جب ایران کی تیل کی صنعت پر امریکا کی مزید پابندیاں عاید ہوں گی تو ایرانی ریال کی قدر میں مزید کمی واقع ہوجائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ اس بات سے تو انکار کرتی ہے کہ وہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایرانی حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں میں باہمی تعلق بالکل واضح ہے۔ایرانی معیشت کی زبوں حالی کے پیش نظر بہت سے شہریوں نے حالیہ دنوں میں بازارِ سلطانی کا رْخ کیا ہے اور وہ آنے والے مشکل حالات سے قبل اپنی جمع پونجی سے زیادہ سے زیادہ خریداری کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ریال کی قدر میں مزید کمی سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور ان کے لیے انھیں خرید کرنا مشکل ہوجائے گا۔اس صورت حال میں بازارِ سلطانی میں کاروبار کرنے والے بعض دکان دار اپنا سب کچھ فروخت کر کے یورپی ممالک کا رْخ کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…