جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات میں پھنسی غریب پاکستانی خاتون کی مدد کیلئے مخیر شخص نے بڑا کام کر دکھایا، تمام قرض ادا کر دیا، قابل تحسین اقدام

datetime 10  ستمبر‬‮  2018 |

دبئی(نیوز ڈیسک) ایک پاکستانی خاتون جس کا شوہر اسے دبئی چھوڑ کر پاکستان واپس آ گیا وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے مانگنے پر مجبور ہو گئی، وہاں کے ایک ہسپتال میں جب خاتون کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی تو اس کے پاس بل ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے جس پر بچے کا برتھ سرٹیفکیٹ دینے سے ہسپتال والوں نے انکار کر دیا،

اس خاتون کا رہائشی سٹیٹس غیر قانونی ہونے کی وجہ سے وہ وہاں نوکری بھی حاصل نہیں کر سکتی تھی اور ایک خراب حالت مکان میں بمشکل رہ رہی تھی۔ جب اس خاتون کے بارے میں یہ افسوسناک خبر چھپی تو ایک نیک دل انسان نے خاتون کے ذمہ ہسپتال کی واجب الادا رقم جو کہ 8600 درہم بنتی تھی ادا کر دی۔ اس شخص نے اخبار کے دفتر سے اس دکھی خاتون کا پتہ حاصل کیا اور اپنا نام و پتہ بتانے سے بھی گریز کیا، جب یہ شخص اس خاتون کے گھر پہنچا تو اسے اس کے گھر کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور اس خاتون کے ذمہ جتنا قرض تھا وہ ادا کر دیا۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے کوئی احسان نہیں کیا ہے بلکہ ایک انسان ہونے کے ناتے یہ اس کی ذمہ داری تھی۔ اس شخص کی خاتون کی مدد کے بعد اخبار کے دفتر میں کئی لوگوں کے فون آئے کہ وہ اس خاتون کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ دبئی میں پاکستان کے کونسل جنرل کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی سکیم سے خاتون کو فائدہ دلوانے کے لیے اس کے دستاویزات جلد از جلد جاری کر دیے جائیں گے۔ رقیہ نامی اس خاتون کا کہنا ہے کہ میں انتہائی مایوسی کے عالم میں تھی لیکن اس نامعلوم شخص نے نئی زندگی شروع کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے۔ اس خاتون نے کہا کہ میں اس شخص کی بہت شکر گزار ہوں، جنہوں نے میرا سارا قرض اتار دیا۔  ایک پاکستانی خاتون جس کا شوہر اسے دبئی چھوڑ کر پاکستان واپس آ گیا وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے مانگنے پر مجبور ہو گئی، وہاں کے ایک ہسپتال میں جب خاتون کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی تو اس کے پاس بل ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے جس پر بچے کا برتھ سرٹیفکیٹ دینے سے ہسپتال والوں نے انکار کر دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…