جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

2013میں مرسی کی حمایت میں احتجاج،75افرادکو سزائے موت،700کو قید کی سزائیں

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

قاہرہ(انٹرنیشنل ڈیسک) مصر کی عدالت نے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے والے صدر محمد مرسی کی حمایت میں 2013 کے احتجاج میں شامل 700 سے زائد افراد کو سزائیں سنادیں۔مصر کی عدالت نے اخوان المسلمون کے رہنماؤں سمیت 75 افراد کو سزائے موت اور 47 کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مذکورہ

عدالتی ٹرائل کو مجموعی طور پر غیر شفاف اور مصر کے آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔خیال رہے کہ 2013 میں ہونے والے احتجاج کے دوران مصر کے دارالحکومت قائرہ کے رابعہ العدو آہ چوک پر پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔رواں سال کے آغاز میں مصر کی پارلیمنٹ نے جولائی 2013 اور جنوری 2016 میں ہونے والے مظاہروں کے دوران جرائم میں ملوث فوجی افسران کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔مصر کی عدالت نے اب جن افراد کو سزائیں سنائی ہیں ان پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف احتجاج، قتل اور غیر قانونی منظم احتجاج کرنے کے الزامات تھے۔رواں سال جولائی میں بھی مصر کی عدالت نے 75 افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔2013 کے مظاہروں کے بعد اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے رہنماوں اور کارکنوں کو نہ صرف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ متعدد کو سزائے موت بھی سنائی گی، جن میں تنظیم کے سپریم لیڈر محمد بدیع بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ مصر کی عدالت نے جن افراد کو قید کی سزائیں سنائی، ان میں ملک کے معروف صحافی محمود ابو زید بھی شامل ہیں جنہیں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب سیکیورٹی فورسز، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کررہی تھیں اور معروف صحافی ان لمحات کو اپنی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کررہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…