جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بصرہ میں بپھرے مظاہرین نے ایرانی قونصل کو آگ لگادی، پرچم پاؤں تلے روند ڈالا

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

بغداد(انٹرنیشنل ڈیسک)عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں مشتعل مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے پردھاوا بول کر اس کی عمارت کو آگ لگا دی۔ مظاہرین نے قونصل خانے سے ایرانی پرچم اتار پھینکا اور اس کی جگہ عراقی پرچم لہرا دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ روزبھی بصرہ میں کشیدگی برقرار رہی۔ پولیس کی فائرنگ سے مزید ایک احتجاجی ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے جس کے بعد

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بصرہ میں ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد 10 تک جا پہنچی ۔بصرہ میں ملٹری آپریشنل کنٹرول روم کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ شہر میں جاری شورش پر قابو پانے کے لیے ایک بار پھر کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی فوری طور پر گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ابصرہ میں مشتعل مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے پردھاوا بول دیا اور عمارت میں گھس کر اسے آگ لگا دی۔ مشتعل مظاہرین نے قونصل خانے پر لگا ایرانی پرچم اتار کر پاؤں تلے روندا۔ادھر دوسری جانب ایران نے بصرہ میں اپنے قونصل خانے کے نذرآتش کیے جانے کی تصدیق کی ہے ،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا کہ مشتعل ھجوم نے بصرہ میں اس کے سفارتی عملے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ قونصل خانے پر حملہ ایک سازش ہے جس کے پیچھے ایران دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے قونصل خانے پر حملہ کرنے والے افراد کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا اور اعتراف کیا کہ قونصل خانے پر حملے کے نتیجے میں عمارت اور دفاتر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے قونصل خانے پر مظاہرین کی یلغار کو وحشیانہ کارروائی قراردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…