پاکستان سیاحتی دولت سے مالامال خطہ ہے۔اس کا ہر صوبہ اور علاقہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں کے باسیوں کی مہمان نوازی اور اخلاق بھی اپنی مثال آپ ہے۔ پچھلی دہائی سے شروع دہشت گردی کی لہر سے جہاں سیاحت کو شدید نقصان پہنچا ہے وہاں ہی یہاں کی آبادی کے کاروبار زندگی کو بھی برح طرح متاثر کیا ہے مگر اس سب کے باوجود یہ یہاں کا حسن ہی ہے کہ دہشت گرد اپنے مضبوط عزائم کے باوجود یہاں سے سیاحت کا خاتمہ نہیں کر سکے۔ بیرونی ممالک سے لوگوں کی بڑی تعداد آج بھی اس سرزمین کے قدرتی حسن سے استفادہ کرنے آتی ہے۔
قلعہ روہتاس جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے قلعوں میں سے ایک ہے جو برصغیر پاک و ہند میں خالصتاً فوجی فن تعمیر کا ایک عظیم الشان اور منفرد نمونہ ہے۔ فرید خان جوکی شیرشاہ سوری کے نام سے جانا جاتا ہے نے1541ء میں توڈرمل کھتری اور شاہ ہوسلطانی کو اسے تعمیر کرنے کا حکم دیا انہیں اس شاہکار کو تعمیر کرنے میں سا ت سال لگائے1548ء میں مکمل کرلیاگیا قلعہ روہتاس صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم سے16کلو میٹر اور دینہ سے سات کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے




















































