جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان : نیٹو فوج کی کمان امریکی جنرل سکاٹ ملر کے سپرد

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

کابل (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا نے افغانستان میں جنرل جان نکلسن کی جگہ جنرل آسٹن سکاٹ ملر کو نیٹو فوجوں کا کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔ وہ افغانستان میں طویل عرصے سے جاری جنگ کے دوران امریکا کے 17 ویں کمانڈر ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کمان سپرد کرنے کی تقریب کابل میں منعقد ہوئی۔ جنرل ملر افغانستان میں آنے والے اولین امریکی فوجی افسروں میں سے ایک تھے۔

جب وہ 2001 میں افغانستان میں تعینات ہوئے۔ اْنہیں 2013 میں واپس امریکا بلا لیا گیا جہاں اْنہوں نے سپیشل آپریشنز کی قیادت کی۔تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں اعلیٰ ترین کمانڈر کی حیثیت سے اْن کی ذمہ داریوں کے علاوہ اْنہیں ایک ماہر سفارتکار کا کردار بھی نبھانا پڑے گا کیونکہ امریکا کی موجودہ حکمت عملی میں طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانے کیلئے آمادہ کرنا شامل ہے تاکہ افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے اْن کے ساتھ کوئی سمجھوتا طے کیا جا سکے۔جنرل ملر خود کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی حکمت عملی میں فوجی پہلو محض ایک حصہ ہے۔ تاہم فوجی کردار سیاسی پیش رفت کیلئے موقع پیدا کرنے کی غرض سے اہم ہے۔کمان سپرد کرنے کی تقریب میں سبکدوش ہونے والے امریکی کمانڈر جنرل نکلسن نے طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اْنہیں اپنے افغان ہم وطنوں کو قتل نہیں کرنا چاہئیے۔ اْنہیں مسلمانوں کو قتل نہیں کرنا چاہئیے۔ اْنہوں نے کہا کہ بیرونی قوتیں طالبان کو لڑنے کی ترغیب دے رہی ہیں جبکہ اْن کے افغان ہم وطن اْنہیں امن پر آمادہ کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔امریکی اور افغان اہلکار ایک عرصے سے پاکستان پر افغان طالبان کو پناہ دینے کے الزام عائد کرتے آئے ہیں جبکہ پاکستان ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔افغانستان میں اس وقت نیٹو فوجوں کی کل نفری 23,000 ہے جن میں 14,000 امریکی فوجی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…