جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

اردن،فلسطین کنفیڈریشن کے حوالے سے فلسطین کا سرکاری موقف کیا ہے؟

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

عمان/مقبوضہ بیت المقدس(انٹرنیشنل ڈیسک)فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کا ایک متنازع بیان ان دنوں ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث ہے۔ اس بیان میں وہ ایک اسرائیلی صحافیہ کو کہہ رہے ہیں کہ اْنہیں اردن کے ساتھ کنفیڈریشن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔صدر عباس کے اس بیان کے بعد فلسطینی اتھارٹی کا سرکاری رد عمل معلوم کرنے کے لیے عرب ٹی وی نے فلسطینی ایوان صدر سے رابطہ کیا۔

ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ کنفیڈریشن میکینزم 1984ء سے فلسطینی قیادت کے ایجنڈے پر ہے۔ اس وقت سے آج تک ہمارا یہ اصولی موقف رہا ہے کہ دو ریاستی حل اردن سے خصوصی تعلقات کا دروازہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنفیڈریشن کیقیام کا فیصلہ فرد واحد یا کوئی ایک گروپ نہیں کرے گا بلکہ یہ دونوں قوموں کا مشترکہ فیصلہ ہوگا۔خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کے ایک وفد نے رام اللہ میں صدر محمود عباس سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد صدر عباس کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر نے ان کے سامنے اردن کے ساتھ الحاق کی تجویز پیش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے امریکی صدر کو کہا تھا کہ اگر اسرائیل بھی اس کنفیڈریشن کا حصہ بنتا ہے تو وہ اس تجویز کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔دوسری جانب اردن نے فلسطین، اردن کنفیڈریشن کی تجویز کو مسترد کردیا ۔ اردنی حکومت کی خاتون ترجمان جمانہ غنیمات نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کنفیڈریشن کی تجویز ناقابل بحث موضوع ہے۔ فلسطین کے حوالے سے اردن کا موقف واضح ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فلسطین کو بھی ایک آزاد ریاست تسلیم کیا جائے۔ اسرائیل 1967ء کی جنگ سے قبل والی پوزیشن پر واپس جائے اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…