جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

انتہائی افسوسناک واقعہ، شناختی کارڈ نہ ہونے پر ہسپتال میں داخلہ نہ ملا،لڑکی وہیل چئیر پرہی دم توڑ گئی،بوڑھا باپ جوان بیٹی کی لاش کے پاس کھڑا دہائی دیتا رہا

datetime 26  اگست‬‮  2018 |

پاکپتن(سی پی پی )سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنی گڈ گورننس کے دعوؤں کے باوجود پنجاب میں صحت کو شعبے کو بہتر بنانے سے قاصر رہے۔یہی وجہ ہے کہ عوام کو آج بھی سرکاری اسپتالوں کے پست معیار کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی باعث بسا اوقات ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جو انسانیت کو شرما دیتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ پنجاب کے شہر پاکپتن میں پیش آیا جہاں ایک لڑکی کو دل کی تکلیف کی شکایت کے بعد اسپتال لایا گیا۔سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں نے پرچی مانگی ،بچی کا والد پرچی

بنوانے آیا تو اسپتال کے عملے نے شناختی کارڈ مانگ لیا۔اس دوران لڑکی بدستور اسپتال کے باہر وہیل چئیر پر بیٹھی رہی۔اسپتال کے عملے نے لڑکی کے باپ کا شناختی کارڈ مانگا تو لڑکی کا بھائی گھر سے شناختی کارڈ لینے گیا تو لڑکی موقع پر دم توڑ گئی۔اسپتال کے ذمہ داران نے غفلت کی انتہا کردی۔لڑکی کو اسٹریچر بھی مہیا نہ کی گئی اور لڑکی کی لاش وہیل چئیر پر پڑی رہی۔بوڑھا باپ ،جوان بیٹی کی لاش کے پاس کھڑا دہائی دیتا رہا۔دوسری جانب سرکاری اسپتال کی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…