جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ بھارت میں ہونیوالے افسوسناک سلوک پر وزیراعظم عمران خان برہم،انتہا پسندوں کو دوٹوک جواب دے دیا

datetime 21  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو سے اپنی وزارتِ عظمیٰ کی حلف برداری کے موقع پر پاکستان آنے پر اظہار تشکر کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اپنی حلف برداری میں شرکت پر نوجوت سنگھ سدھو کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سدھو امن کے سفیر ہیں، انہیں پاکستان کے عوام نے بے پناہ پیار اور محبت دی ہے۔انہوں نے کہاکہ

پاکستان آنے پر بھارت میں جو لوگ سدھو کو نشانہ بنارہے ہیں وہ برصغیر میں برصغیر میں امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں ٗامن کے بغیر ہمارے لوگ ترقی نہیں کر سکتے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مستقبل کی جانب پیش قدمی کیلئے ہندوستان اور پاکستان کو مذاکرات کرنا ہوں گے اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل نکالنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ غربت مٹانے اور برصغیر کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا آسان ترین نسخہ ہے کہ بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کئے جائیں اور باہم تجارت کا آغاز کیا جائے۔دریں اثناء سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو انتہا پسند ہندوؤں کے احتجاج اور غداری کے مقدمے کی درخواست دائر ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان امن کیلئے ڈٹ گئے۔نوجوت سنگھ سدھو کا عمران خان کی بطور وزیراعظم تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملنا اس وقت بھارت کی سیاست میں ہاٹ ایشو بن چکا ہے۔انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے بھارت بھر میں سدھو کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیاٗ ریاست بہار میں ان پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے تاہم سدھو نے اس ساری تنقید کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔نوجوت سندھ نے اپنے خلاف ہونے والے پراپیگنڈے کے خلاف

پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے دی جانے والی محبت کو سرمایہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریب میں پہلی قطار میں بیٹھا تھا کہ مجھے دیکھ کر پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ میرے پاس آئے اور گرمجوشی سے ملے، دو بار کہا کہ شاباش بہادر انسان ہو۔سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے ان سے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں اور بابا گرونانک کے 550 جنم دن پر کرتا

ر پورہ کا راستہ کھول دیں گے۔نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ 2 دن میں جو محبت پاکستان اور پاکستانیوں نے دی ہے، وہ میرے لیے فخر اور سرمایہ ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان امن کے لیے امید بھی پیدا ہوچلی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں جذبہ خیر سگالی کے تحت پاکستان گیا تھا اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں بہتری کے لیے ایسے پیغامات دیئے جاتے ہیں، اگر ایسا نہیں ہے تو بھارتی سفیر کی جانب سے کرکٹرز کا دستخط شدہ ’بلا‘ تحفے میں دیا گیا تو

ہائی کمیشن بھی بند کردینا چاہئے؟ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ واجپائی اور نریندر مودی بھی پاکستان کا دورہ کرتے رہے ہیں تو کیا ان کو وزیر اعظم تسلیم نہیں کیا جائیگا؟ اس سب کے باوجود مجھ پر ہی تنقید کیوں کی جارہی ہے؟ ۔نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ بھارتی حکومت کی اجازت سے ہی تقریب میں شریک ہوا ہوں جس کیلئے وزیر خارجہ سشما سوراج نے ہی فون کرکے کہا تھا ٗ پاکستان میں تقریب میں شرکت کا کہہ کر نہ جانا اچھا عمل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں امن کے لیے مذاکرات ہی حل ہیں اور تمام مسائل کا حل مذاکرات میں ہی ہے، ہمیں دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا۔ نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو نہیں مانتا بلکہ اپنی پارٹی قیادت کو جواب دہ ہوں اور پارٹی کی قیادت میرے ساتھ کھڑی ہے، بڑے ہندوستان میں چھوٹے چھوٹے دل ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے ایسا نہیں ہوگا۔سدھو نے پریس کانفرنس کے آخر میں پاکستان کی مہمان نوازی شاعرانہ انداز میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے پیار سے مرشد میرے کا نام لیا ٗکسی نے پیار سے رہبر میرے کا نام لیا ٗکسی نے پیار سے نانک گرو کا نام لیا، تو میرے دل سے جو امڈا تھا احترام و ادب وہ چشمہ بن کر میری آتما سے پھوٹ پڑا، یہی تھی میری خطا، اب جو چاہو دے دو سزا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…