جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

زمین پر موجود وہ سات انسانی سٹرکچر جو خلا سے بھی نظر آتے ہیں، ان میں پاکستان کی کیا چیز شامل ہے؟

datetime 19  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہمارا سیارہ ایک بہت بڑی جگہ ہے اور کئی ہزار سال سے انسان اسے بڑے اور شاندار تعمیرات سے بھر رہے ہیں جیسے عظیم الجثہ اہرام، بلند و بالا دیواریں ، گنجان آباد شہر اور بہت کچھ۔مگر زمین کی سطح سے لگ بھگ 250 میل اوپر واقع انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے ہمارا یہ بڑا سیارہ کافی چھوٹا

نظر آتا ہے، یہاں موجود گھر، سڑکیں اور عمارات نظرون سے اوجھل ہوجاتیں، یہاں تک کہ عظیم الشان تعمیرات بھی ایک نیلے، سفید اور سبز رنگ کی دھند میں گم ہوجاتے ہیں۔مگر پھر بھی کچھ اسٹرکچر ایسے ہیں جو زمین سے باہر خلاء میں ڈھائی سو میل کے فاصلے سے بھی نظر آتے ہیں جن میں سے کچھ نیچے دیئے گئے ہیں۔ گیزہ کے عظیم اہرامکیا آپ کو تصویر کے مرکز مین 2 چھوٹے سے تکونی سائے نظر آرہے ہیں؟ یہسائے درحقیقت انسانوں کی تعمیر کردہ چند ذہن گھمادینے والی عمارات میں سے ایک ہیں اور یہ مصر میں دریافت ہونے والے اہراموں میں سب سے زیادہ معروف ہیں ، یہ ہیں گیزہ کے اہرام۔ ان تینوں میں سب سے بڑا لگ بھگ 500 فٹ طویل ہے مگر خلاءسے یہ مصری صحرا مین ایک ننھے نشان جیسا ہی نظر آتا ہے۔ رات کو شہروں کی روشنیاںرات کے وقت شہروں کو جگمگانی والی روشنیاں بے شک ستاروں کو آسمان سے غائب کررہی ہوں، مگر خلاءسے دیکھا جائے تو بیشتر شہروں کی یہ مصنوعی روشنیاں اپنی کہکشاں بنائے نظر آتی ہیں، جن سے ان کے ارگرد کا علاقہ منور ہورہا ہوتا ہے۔ کیننیکوٹ کاپر مائنامریکی ریاست یوٹاہ کے علاقے سالٹ لیک سٹی کے جنوب میں واقع یہ کان دنیا کی چند بڑی کھلی کانوں میں سے ایک ہے۔ یہ ڈھائی میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور 4 ہزار فٹ گہری ہے، یہاں سب سے پہلے کان کنی کا آغاز 19 ویں صدی کے آخر میں ہوا۔ پلانسان زمانہ قدیم سے پلوں کو تعیر کررہے ہیں اور ہر دور میں ان میں بہتری ہی آئی ہے۔ ان میں کچھ انجنیئرنگ کا شاہکار بھی ہیں، ایسے عظیم الجثہ برج پانیوں کے اوپر سے گزر کر آمد و رفت کو ممکن بناتے ہیں، یہاں موجود تصویر آئی ایس ایس جانے والے ایک خلاءباز نے لی تھی جو کہ امریکا کے بے ایریا کی ہے۔ دبئی کے پام آئی لینڈزیہ پام آئی لینڈز انسان کے تعمیر کردہ جزیروں کے مجموعی پر مشتمل ہیں جو دبئی کے ساحل پر تعمیر ہوئے، ان جزیروں کی تعمیر کے لیے مزدورون نے خلیج فارس کی تہہ سے ریت کو نکالا اور اس کو ایسے انداز سے اسپرے کیا کہ وہ گہرے پانی میں جزیرے کی شکل اختیار کرگئی۔ کچھ جزیروں کو پام درختوں کی شکل مین تعمیر کیا گیا ۔المیرہ کے گرین ہاؤسز جنوبی اسپین کے صوبے المیرہ میں ساحلی علاقے پر بڑی تعداد میں گرین ہاؤسز کو تعمیر کیا گیا ہے جو 64 ہزار رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، یہاں ہر سال لاکھوں ٹن پھل اور سبزیوں کو اگایا جاتا ہے جنھیں دنیا کے مختلف مقامات پر برآمد کیا جاتا ہے، مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان گرین ہاؤسز کو خلاءسے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی سرحدیہ دونوں ممالک روایتی حریف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دونوں کی سرحدی لکیر پر فلڈ لائٹس کو رات کو جلایا جاتا ہے تاکہ اسلحے، ٹریفکنگ اور دیگر جرائم کو روکا جاسکے۔ یہ روشنیاں اتنی زیادہ روشن اور نارنجی رنگ کی ہوتی ہیں کہ انہیں آئی ایس ایس سے بھی شناخت کیا جاسکتا ہے۔ اس تصویر میں اوپر کا روشن حصہ انڈیا جبکہ اس سے نیچے پاکستان کا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…