جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

گونج سننے کے لیے دونوں کان ضروری ہیں،سائنسی تحقیق

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)سائنس کی ایک تحقیق کے مطابق گونج کو سن کر چیزوں کو تلاش کرنا نابینا اور بینا دونوں طرح کے افراد کے لیے بہت اہم کام ہے۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف ساو¿تھ ہمپٹن کی تحقیق کے مطابق یہ بالکل ویسی ہی مہارت ہے جس کا استعمال ڈالفن اور چمگادڑ کرتے ہیں اور اس کے لیے دونوں کانوں سے اچھی طرح سننے کی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔سائنسدانوں کو تجربات سے معلوم ہوا کہ جو افراد ایک کان سے سننے کی قوت کھو چکے تھے، انھیں ٹیسٹ کے دوران چیزیں ڈھونڈنے میں مشکل پیش آئی۔تحقیق کے مطابق ماہرِ سمعیات کو اس حقیقت کا علم ہونا چاہیے کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے لوگوں کی قوتِ سماعت گھٹتی جاتی ہے۔اس تحقیق کے دوران نابینا اور بینا افراد کے ساتھ بہت سے تجربات کیے گئے جن میں ان سے چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ ان کے دائیں طرف ہے یا بائیں جانب ہے۔آوازوں کو مختلف طریقوں سے وقفوں میں بدلا جاتا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ چیزیں وقفوں کے دوران مختلف مقامات پر ہیں۔اس تجربے سے معلوم ہوا کے لوگ ان چیزوں کے مقام کا صحیح پتہ لگا سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب ان کی قوتِ سماعت ٹھیک ہو اور وہ دونوں کانوں سے سن سکتے ہوں۔یونیورسٹی آف ساو¿تھ ہمپٹن کے ڈاکٹر ڈینئل روون کا کہنا ہے کہ اس کا اثر صرف بوڑھے افراد پر ہوتا ہے جن کی قوتِ سماعت کم ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ تیز آوازوں کو دونوں کانوں سے نہیں سن پاتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ قوتِ سماعت کھونے کی مخصوص اقسام میں گونجتی آوازوں میں چیزوں کو ڈھونڈنے کے عمل پر کیا اثر ہوتا ہے۔ ہمارے نتائج کے مطابق ایسے افراد کو مشکل ہوتی ہے۔‘ڈاکٹر روون کا کہنا ہے کہ آلہ سماعت صرف گفتگو سننے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’ہماری تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان آلات کو گونجتی آوازوں کو سننے کے لیے بھی استعمال کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ملک کے چند حصوں میں یہ آلات صرف ایک کان میں لگائے جاتے ہیں لیکن انھیں دونوں کانوں سے سننے کی ضرورت ہے۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…