جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں باپ کی موت کے 3سال بعد بیٹے کی ولادت کا کرشمہ

datetime 19  اگست‬‮  2018 |

ممبئی(آئی این پی ) ایک مارکیٹنگ کنسلٹینٹ کی سڑک حادثے میں موت کے 3سال بعد اس کے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔نوجوان کی بیوی نے جسلوک اسپتال میں اس کے بیٹے کو جنم دیا۔یہ سب پیار، انتظار اور تکنیک اورکوششوں کے باعث ممکن ہوسکا۔گھر میں غم و ماتم کا دن نومولودکی قلقاریوں سے گونج اٹھا۔2015 میں بنگلور میں مارکیٹنگ کنسلٹینٹ کے طور پر کام کرنے والے 30سالہ شوہر سوپریہ جین اور گورو ایس نے

زندگی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ شادی کے 5سال بعد بھی جب وہ اولاد کی نعمت سے محروم رہے تو انہوں نے آئی وی ایف تکنیک کی مدد لی۔ قسمت میں کچھ اور ہی تھا۔ اس عمل کے چند روز بعد شوہر کی سڑک حادثے میں موت ہوگئی۔ شوہر کی موت کے بعد سوپریہ نے گورو کے بارے میں سوشل میڈیا پر تحریر کیا کہ حادثہ سے قبل شوہر نے والدین اور بھتیجے سے ملاقات کی۔گورو نے کہا کہ وہ واپس آکر اچھی خوشخبری دیگا۔جے پور کی رہنے والی سوپریہ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔انہوں نے ڈاکٹرفیروزہ سے مشورہ کے بعد ماں بننے کیلئے مہنگے علاج کا سفر شروع کیا۔ڈاکٹر فیروزہ پاریکھ نے بتایا کہ ہم کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے۔ متعدد بار ایگز فرٹیلائز کرنے کی کوشش کی جب ہمارے پاس آخری موقع بچا تو اس وقت ایگ کام کرگیا۔سوپریہ نے بتایا کہ میں بچہ نہیں بلکہ گورو کا بچہ چاہتی تھی ہم نے پہلے ہی طے کیا تھا کہ ہمارا ایک بچہ ہوگا اور دوسرا گود لیں گے ۔ بچے کی پیدائش نے مجھے جینے کا حوصلہ عطا کیا۔  ایک مارکیٹنگ کنسلٹینٹ کی سڑک حادثے میں موت کے 3سال بعد اس کے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔نوجوان کی بیوی نے جسلوک اسپتال میں اس کے بیٹے کو جنم دیا۔یہ سب پیار، انتظار اور تکنیک اورکوششوں کے باعث ممکن ہوسکا۔گھر میں غم و ماتم کا دن نومولودکی قلقاریوں سے گونج اٹھا۔2015 میں بنگلور میں مارکیٹنگ کنسلٹینٹ کے طور پر کام کرنے والے 30سالہ شوہر سوپریہ جین اور گورو ایس نے زندگی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…