جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

برطرف کئے گئے پانچ ججز نے اپنے خلاف کئے گئے فیصلے کو چیلنج کردیا،نہ کوئی ثبوت فراہم کئے گئے اور نہ ہی انکوائری ہوئی،اصل وجہ کیا ہے؟ بڑا دعویٰ کردیا

datetime 18  اگست‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی) پشاورہائی کورٹ کی جانب سے برطرف کئے گئے ججز نے کہاہے کہ ہمیں بغیر ثبوت کے نوکریوں سے نکالا، ثبوت ہیں تو فراہم کیے جائیں۔ہمیں صفائی کا موقع نہیں دیا گیا،کوئی انکوائری نہیں ہوئی، ہائیکورٹ میں درخواست دی لیکن اس پر بھی سماعت نہیں ہوئی۔

ہر مجرم کو صفائی کا موقع دیا جاتا ہے لیکن ججز کو نہیں دیا گیا۔ صفائی کا موقع دیا جائے،الزام ثابت ہوا تو جو سزا دیں قبول ہوگی۔ ہائی کورٹ کی جانب سے برطرف کیے گئے سابق سول جج شکیل الرحمان،سابق ایڈیشنل سیشن جج اورنگزیب خان اورنعیم اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ : پچھلے ماہ بیس جولائی کو ہم پانچ ججز کو معطل کیا گیا اور کل ہمیں برطرف کیا گیا ۔ ہمارے خلاف کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہیئرنگ میں بھی ہمیں صفائی دینے کا موقع نہیں دیاگیا۔تحقیقات کے بغیر ہمیں گھر بھیج دیا گیا ۔ ہم سے انصاف کی توقع کی جاتی ہے مگر ہمیں انصاف فراہم نہیں کیاگیا۔ قانون کے مطابق شفاف تحقیقات کی جائیں ۔ اگر ہمارے خلاف ثبوت ملتے ہیں تو میں گھر جانے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سالوں سے انصاف کی فراہمی کرتے رہے ہیں آج ہم خود انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں۔جوڈیشل سروس ٹریبونل میں اپیل کریں گے ۔ پشاورہائی کورٹ کی جانب سے برطرف کئے گئے ججز نے کہاہے کہ ہمیں بغیر ثبوت کے نوکریوں سے نکالا، ثبوت ہیں تو فراہم کیے جائیں۔ہمیں صفائی کا موقع نہیں دیا گیا،کوئی انکوائری نہیں ہوئی، ہائیکورٹ میں درخواست دی لیکن اس پر بھی سماعت نہیں ہوئی۔ہر مجرم کو صفائی کا موقع دیا جاتا ہے لیکن ججز کو نہیں دیا گیا۔ صفائی کا موقع دیا جائے،الزام ثابت ہوا تو جو سزا دیں قبول ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…