جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قتل کے سنگین واقعے میں ملوث ہونے کی خبریں،1998ء میں دراصل ہوا کیاتھا؟قتل کا مقدمہ کیوں درج ہوا؟نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سب سامنے لے آئے، حیرت انگیزانکشافات

datetime 18  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) قتل کے سنگین واقعے میں ملوث ہونے کی خبریں،1998ء میں دراصل ہوا کیاتھا؟قتل کا مقدمہ کیوں درج ہوا؟نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سب سامنے لے آئے، حیرت انگیزانکشافات، تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے میڈیا میں آنے والی رپورٹس پر

رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف کیس ختم ہو چکا ہے اور عدالت نے مجھے بری کر دیا ہے۔ میرا اس کیس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ فریقین کا آپس میں جھگڑا تھا اور ہم نے ان کی صلح کروائی تھی چونکہ یہ ہمارے قبیلے کا مسئلہ تھا اس لئے دیت کا معاملہ بھی ہم نے طے کروایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں کسی کو بھی نامزد کیا جا سکتا ہے، میرا اس مقدمے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اور میں اپنے متعلق ہر بات کا جواب دینے کیلئے تیار ہوں۔اس سے قبل نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے بتایا تھاکہ 1998میں عثمان بزدار اور ان کے والد پر قتل کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج ہوا تھا تاہم عثمان بزدار اور ان کے والد نے 75 لاکھ روپے دیت ادا کرکے فریقین سے صلح کی تھی۔ دریں اثناء نیب بھی عثمان بزدار کیخلاف بطور تحصیل ناظم جعلی بھرتیوں کی تحقیقات کر چکی ہے۔ ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ جعلی بھرتیوں کا ثبوت نہ ملنے پر عثمان بزدار کے خلاف فائل بند کر دی تھی۔  قتل کے سنگین واقعے میں ملوث ہونے کی خبریں،1998ء میں دراصل ہوا کیاتھا؟قتل کا مقدمہ کیوں درج ہوا؟نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سب سامنے لے آئے، حیرت انگیزانکشافات، تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے میڈیا میں آنے والی رپورٹس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف کیس ختم ہو چکا ہے اور عدالت نے مجھے بری کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…