راولپنڈی (آئی این پی) چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے 15دہشت گردوں کی سزائے موت کی تصدیق کردی ۔ جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گرد مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے سمیت دہشت گردی سے متعلق سنگین جرائم میں ملوث تھے، دہشت گرد تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور شہریوں کے قتل میں ملوث تھے،
دہشت گرد45افراد کے قتل اور 103کو زخمی کرنے میں ملوث ہیں، دہشت گردوں سے اسلحہ اور بارود برآمد ہوا تھا، دہشت گردوں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلایا گیا، اور تمام دہشت گردوں نے عدالت کے سامنے اپنے جرائم کو اعتراف کیا جبکہ 6دہشت گردوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، آئی ایس پی آر کے مطابق سیداللہ ولد اول جان ، زرمحمد ولد سخی مرجان اور الف خان ولد سردار خان کالعدم تحریک کے رکن تھے ، وہ قانون نافذکرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے جس کے باعث حوالدار غلام یٰسینحوالدار سید علی احمد شاہ اور حوالدار محمد علی سمیت 14فوجی شہید اور 39زخمی ہوئے تھے، مجرمان نے مجرم نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور ٹرائل کے سامنے اپنا جرم قبول کیا ، مجرم کو سزائے موت سنائی گئی۔مجاہد ولد یارولی کالعدم تحریک کا رکن تھا ، مجرم خیبر ایجنسی میں گورنمنٹ بوائر اور گرلز سکولوں کو تباہ کرنے میں ملوث تھا اس نے حملہ کرکے ایک فوجی کو شہید جبکہ ایک کو زخمی کیا تھا، مجرم نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور ٹرائل کے سامنے اپنا جرم قبول کیا ، مجرم کو سزائے موت سنائی گئی۔طارق علی ولد بھاور شاہ کالعد م تحریک کا رکن تھا، مجرم قانون نافذکرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں سب انسپکٹرعمر خیام سمیت تین اہلکار شہید جبکہ 6زخمی ہوئے، مجرم کے قبضے سے آتش گیر مادہ برآمد ہوا تھا، مجرم نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور ٹرائل کے سامنے اپنا جرم قبول کیا ،
مجرم کو سزائے موت سنائی گئی۔اسرار احمد ولد تاج محمد کالعدم تحریک کا رکن تھا مجرم پولیس اہلکاروں اعجاز احمد اور زرمینہ کو شہید کرنے میں ملوث تھا جبکہ اس نے دو شہریوں کو بھی زخمی کیا، مجرم کے قبضے سے آتش گیر مادہ بھی درآمد ہوا، مجرم نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنا جرم قبول کیا اور اسے بھی سزائے موت سنائی گئی۔کلیم اللہ ولد حیات اللہ بھی کالعدم تحریک کا رکن تھا، وہ عام لوگوں پر حملوں سمیت پاک فوج پر بھی حملوں میں ملوث تھا، جس کے نتیجے میں ایک فوجی زخمی ہوا، مجرم سے غیر قانونی آتش گیر مادہ بھی برآمد ہوا تھا،
مجرم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کے سامنے اپنے جرم کو قبول کیا اسے بھی سزائے موت سنائی گئی۔محمد رحمان ولد شیر رمضان بھی کالعدم تحریک کا رکن تھا، مجرم نے نائیک احمد وفا کو چاکو کے حملے سے شہید کیا تھا، اس نے تاوان کیلئے دو فوجیوں کو اغواء بھی کیا ، مجرم نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور ٹرائل کے سامنے اپنا جرم قبول کیا ، مجرم کو سزائے موت سنائی گئی۔فیاض اللہ محمد نواز خان کالعدم تحریک کا رکن تھا ، وہ پاک فوج پر حملوں میں ملوث تھا ، جس کے نتیجے میں سپاہی شہزاد پرویز کی شہادت ہوئی، مجرم نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنا جرم قبول کیا ، اسے سزائے موت سنائی گئی ۔