جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں بچوں کی امریکہ سمگلنگ کی جانے لگی ،ایک بچہ کتنے میں بیچا جاتا ہے؟تہلکہ خیز انکشاف

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی (آن لائن)بھارتی پولیس نے بھارت سے بیرون ملک بچے اسمگل کر نے والے ایک ایسے گروہ کو گرفتار کیا ہے جس نے 300 بچے امریکا اسمگل کئے اور انسانی سمگلرز کو ہر بچہ 45لاکھ کے عوض فروخت کیا۔جمعرات کے روز پولیس حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ راجو بھائی گملے والا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

گجرات کے رہائشی نے اسمگلنگ کا یہ کام 2007 میں شروع کیا تھا،وہ امریکا میں مقیم اس دھندے میں ملوث لوگوں کے ہاتھ بچے 45 لاکھ میں بیچتا تھا۔ان بچوں کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان تھیں اور ان کا تعلق غریب گھرانے سے تھا۔پولیس کے مطابق اس غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے بچوں کے والدین نے انہیں بیچا تھا۔پولیس نے مزید بتایا کہ اس گروہ کا پہلی دفعہ مارچ میں پتہ چلا تھا جب ایک بھارتی اداکارہ کی ایک دوست کی جانب سے انہیں کال موصول ہوئی۔اداکارہ کی دوست نے انہیں بتایا کہ وہ ایک سلون میں موجود ہیں جہاں 2بچیاں بھی ہیں جن کو میک اپ کر کے ان کی شناخت چھپائی جارہی ہے،اسی شک کی بنا پر انہوں نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد اس گروہ کی گرفتاری عمل میں آئی۔پولیس کا کہنا تھا کہ گروہ کا سربراہ 2007 میں پہلے ہی گرفتار ہو چکا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بچوں کو فروخت کرنے کے اس گھناؤنے فعل کے منظر عام پر آنے سے عوامی حلقوں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ذمہ داران کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔دوسری جانب کانگریس رہنما راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ متعلقہ ادارے ذمہ داران کیخلاف جلد سے جلد کاروائی عمل میں لائیں اور پورے گروہ کو گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے حکمران جماعت بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں اتنے عرصے سے یہ گھناؤنا جرم جاری ہے اور حکمران جماعت کے کرپٹ افسران رشوت کے عوض یہ کام اپنی سربراہی میں انجام دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلد از جلد کارروائی کرے بصورت دیگر ہم ملک گیر احتجاج کریں گے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…