بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

کوئی قانون سے بالاتر نہیں ،اگر یہ کام نہ ہوا تو پھر ملٹری حکام کو طلب کرینگے، چیف جسٹس نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 15  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان کیس میں وزارتِ دفاع سے کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کرکے ایک ماہ کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اصغر خان کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ

ہوا تو وزارتِ دفاع کے بجائے ملٹری حکام کو عدالت میں طلب کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے، تاہم عدالت حکم پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اصغر خان کیس میں آرمی افسران کے خلاف ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے وزارتِ دفاع کے نمائندے بریگیڈیئر فلک ناز سے استفسار کیا کہ اب تک آپ نے اس فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا؟ جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ابھی تک وزارتِ داخلہ کی جانب سے سمری موصول نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ کتنے دن میں تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے جس پر انہوں نے درخواست کی کہ انہیں اس کام کیلئے 4 ہفتوں کا وقت دیا جائے۔عدالتِ عظمیٰ نے 4 ہفتے کا وقت دیدیا جبکہ وزارتِ دفاع سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ وہ ضروری معلومات فیڈرل انوسٹیگیش ایجنسی (ایف آئی اے) کو مہیا کریں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سیاست دان ایف آئی اے سے تعاون کر رہے ہیں جس پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے بتایا کہ میر ظفر اللہ خان جمالی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی، انہوں نے رقوم لینے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میرحاصل بزنجو اور ہمایوں مری الیکشن میں مصروفیات کے باعث اب ایف آئی اے میں پیش ہوں گے۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے رواں ماہ 11 اگست کو 1990 کی دہائی میں سیاست دانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کرنے کے معاملے سے متعلق اصغر خان کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کردیا تھا۔اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے کیس سے جڑے فریقین سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ، سابق ڈی جی انٹر سروسز انٹیلی جنس اسد درانی، اٹارنی جنرل خالد اختر، ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، مہران بینک کے مالک یونس حبیب سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردئیے گئے تھے ٗاس کے علاوہ عدالت نے مذکورہ کیس کے تفتیشی افسر بشیر میمن کو رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…