جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نوجوان محبوبہ کو قتل کر کے اس کا مغز فرائی کرکے کھانے اور خون پینے والے درندے کو گرفتار،لرزہ خیز قدم کیوں اٹھایا؟ ناقابل یقین وجہ سامنے آگئی

datetime 24  جولائی  2018 |

ماسکو(آئی این پی) نوجوان محبوبہ کو قتل کر کے اس کا مغز کھانے اور خون پینے والے درندے کو گرفتار کر لیا گیا، محبوبہ کو بہتر شاعری تحریر کرنے کے لئے قتل کیا۔لوچین پاگلوں کی دنیا اور سیریل کلر نامی ویب سایٹ کا ممبر بھی تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک روسی نوجوان اپنی گرل فرینڈ کا دماغ نکال کر کھا گیا اور اس کا خون پی لیا۔

جب پولیس نے اسے گرفتار کرکے تفتیش کی تو اس نے اس ہولناک واردات کی ایسی وجہ بتادی کہ سن کر ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اس 21 سالہ نوجوان کا نام دمتری لوچین ہے، جس نے شراب کی بوتل اپنی گرل فرینڈ اولگا بوڈونوا کے سر میں مار کر اسے شدید زخمی کیا، پھر چھری سے اس کا سر کھول کر دماغ نکالااور اسے فرائی کرکے کھا گیا۔ یہ حیوان صفت شخص خاتون کا دماغ کھاتے وقت اس کا خون بھی گلاس میں ڈال کر پیتا رہا۔ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ میں نے اپنی گرل فرینڈ کو اسی کے فلیٹ میں قتل کیا تھا، جب 8 مارچ کو شراب نوشی کرتے ہوئے خواتین کے عالمی دن کا جشن منا رہے تھے۔اس بھیانک حرکت کی وجہ بتاتے ہوئے ملزم نے کہا کہ میں سیریل کلرز اور روایتی انسانی قربانیوں کے متعلق انٹرنیٹ پر سرچ کرتا رہتا تھا۔ ان کہانیوں کی وجہ سے میں آدم خوری کی طرف راغب ہو گیا۔وحشت ناک حادثے کی عینی شاہد 21 سالہ ایلگزینڈرا دوڈوا نے پولیس کو بتایا کہ مذکورہ ملزم نے خاتون کے سر سے نکلنے والے خون سے فلیٹ کے دروازے پر شیطان کا نشان بنایا یعنی شیطان کو بھی بلانا چاہتا تھا۔ایلگزینڈرا دوڈوا کا کہنا تھا کہ ملزم نے 5 منٹ تک انتظار کیا جب شیطان نہیں آیا تو اس نے خاتون کا دماغ فرائی کرکے کھالیا اور اس کا خون بھی گلاس میں ڈال کر پی گیا۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ

اس نے شاعری کے لیے قتل کیا تاکہ اچھے شعر لکھ سکے۔ پولیس کے مطابق لوچین پاگلوں کی دنیا اور سیریل کلر نامی ویب سایٹ کا ممبر بھی تھا۔رپورٹ کے مطابق لوچین نے عدالت سے درخواست کی اس کے کیس کی سماعت بند کمرے میں کی جائے تاہم عدالت نے اس کی درخواست مسترد کردی۔لوچین کو قتل کرنے اور لاش کی بے حرمتی کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…