بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیریوں کو طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے زیر کرنے میں ناکامی کے بعد بھارت اب مقبوضہ کشمیر میں کیا کررہاہے؟،ترک نیوز چینل نے خطرناک منصوبہ سے پردہ اُٹھادیا

datetime 20  جولائی  2018 |

سرینگر(این این آئی) ترکی کے قومی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے امرناتھ یاترا کو استعمال کر رہا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ترکی کے دارالحکومت استنبول میں قائم انگریزی نیوز چینل ٹی آر ٹی ورلڈ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ کشمیریوں کو طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے زیر کرنے میں ناکامی کے بعد

بھارت اب ان کو اپنی ثقافتی یلغاراور مذہبی سیاحتی سرگرمیوں کے ذریعے کمزور کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ امرناتھ یاترا جموں وکشمیر پر بھارتی نوآبادیاتی دعوے کی علامت بن چکی ہے اور ہر برس جب یاترا شروع ہوتی ہے تو اسکے ساتھ ہی مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فورسز کے مزید اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں۔رپورٹ میں امرناتھ یاترا کو محض ایک ثقافتی پروجیکٹ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا واحد مقصد کشمیر میں ہندو نوآبادیت کو آگے بڑھانا ہے۔ ترکی کے نیوز چینل نے مزید کہا 1980کی دہائی میں زیادہ سے زیادہ دو ہزار بھارتی ہندو امرناتھ یاترا کیلئے جاتے تھے جبکہ آج کل یہ تعدادبڑھ کر ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے اوراتنی بڑی تعداد میں یاتریوں کی آمد سے کشمیر کا قدرتی ماحول بھی متاثر ہو رہا ہے ۔  ترکی کے قومی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے امرناتھ یاترا کو استعمال کر رہا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ترکی کے دارالحکومت استنبول میں قائم انگریزی نیوز چینل ٹی آر ٹی ورلڈ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ کشمیریوں کو طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے زیر کرنے میں ناکامی کے بعد بھارت اب ان کو اپنی ثقافتی یلغاراور مذہبی سیاحتی سرگرمیوں کے ذریعے کمزور کرنا چاہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…