اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کا علم انسان کو خود بخود ہوجاتا ہے اور اس کیلئے اس کے پاس کوئی ٹھوس توجیح یا علم موجود نہیں ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اس کا ادراک نہ صرف درست ہوتا ہے بلکہ یہ دوسروں کیلئے حیران کن بھی ہوتا ہے۔ خود بخود جان لینے کے اس عمل کو چھٹی حس کہا جاتا ہے۔ چھٹی حس آج تک ماہرین کی نگاہوں میں متنازعہ رہی ہے، کچھ کے نزدیک علم و آگہی کے مختلف ذریعوں میں چھٹی حس بھی شامل ہے، جبکہ کچھ اسے لاشعوری طور پر دماغ میں جانے والی معلومات کا ہی ایک دوسرا نام دیتے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ماہرین نہ صرف چھٹی حس کو ثابت کرچکے ہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ اس پر کسی بھی شخص کو کیونکر یقین کرلینا چاہئے۔ہر شخص میں چھٹی حس کسی نہ کسی حد تک موجود ہوتی ہے۔ کچھ کی چھٹی حس انہیں دور دراز مقامات پر ہونے والی سرگرمیوں کا بھی پتہ دے ڈالتی ہے جبکہ کچھ کی چھٹی حس معمولی سرگرمیوں کو ہی محسوس کرپاتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ ایک پرہجوم ہال میں آنکھیں بند کئے بیٹھی ہیں اور پھر بھی آپ کو اپنے برابر سے بنا آواز پیدا کئے گزرنے والے شخص کا معلوم ہوجاتا ہے اور آپ بے اختیار آنکھیں کھول کے اسے دیکھتی ہیں۔ یہ چھٹی حس ہوتی ہے۔ دراصل انسانی دماغ آوازوں کا تین طریقوں سے تجزیہ کرتا ہے۔ اس کیلئے وہ آواز کی شدت، اس کی آمد کا وقت اوراس کی فریکوئنسی کا جائزہ لیتا ہے۔ تجزیہ کی صلاحیت جس قدر تیز ہو، اسی قدر چھٹی حس بھی تیز ہوتی ہے۔ اسی طرح جب آپ جنس مخالف کے دو افراد سے ملتی ہیں جو دیکھنے میں ایک جیسے ہی پرکشش دکھائی دیتے ہیں، پھر بھی آپ ان میں سے کسی ایک کی جانب کھنچی چلی جاتی ہیں تو اس کی وجہ آپ کی ناک کی سونگھنے کی صلاحیت ہوتی ہے جو ان دونوں افراد کے جسم سے پھوٹنے والی خوشبوو¿ں کا تجزیہ کرتی ہے اور اس کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے کہ آپ کو ان میں سے کس کی زیادہ ضرورت ہے۔ دراصل یہ صلاحیتیں دماغ کو حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں بڑھتی ہیں۔ جب ایک شخص اپنے دماغ سے موصول ہونے والے سگنلز کو اہمیت دینے لگتا ہے تو اس سے اس کے دماغ کا نہ صرف اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ خود ہو شخص بھی اپنے دماغ سے موصول ہونے والے معمولی سگنلز کو بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔سائکوتھراپسٹس کا ماننا ہے کہ وہ افراد جنہیں اپنی ذات پر زیادہ اعتماد نہ ہو، ان کی چھٹی حس کمزور ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں اپنی ذات پر اور اپنی چھٹی حس سے ملنے والے اشاروں پر یقین نہیں ہوتا ہے، اسی لئے وہ کوئی اشارہ ملنے پر بھی اس جانب توجہ نہیں دیتے ہیں۔ اگر ان افراد سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے اندر سے آنے والی اس آواز پر کان کیوں نہیں دھرتے تو ان کا ماننا ہوتا ہے کہ ان کے پاس اس کیلئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے ، اسی لئے وہ اس کو ماننے سے انکار ہیں۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سائنس کے پاس ایسے بہت سے دلائل موجود ہیں جن کی روشنی میں اندر سے آنے والی آواز، احساسات کو ماننے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ عام زبان میں جسے الہام کہا جاتا ہے، اگر اس پر توجہ دی جائے تو یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جسے استعمال میں لا کے معاشرتی روابط کو بہت بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی
-
ربیع الاول کے چاند سے متعلق اعلان ہوگیا
-
مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا پی ٹی آئی کا سرگرم رکن ہلاک، اہم انکشافات سامنے آگئے



















































